عمران خان کی اسپتال منتقلی اور واپسی پر عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس کردی

عمران خان نے شدید ذہنی ٹارچر اور قید تنہائی میں رکھے جانے کی شکایت کی، میں موبائل کی روشنی میں وارڈ پہنچی، ہمیشرہ بانی پی ٹی آئی

August 21, 2026 · اہم خبریں
عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان پریس کانفرنس کر رہی ہیں

عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان پریس کانفرنس کر رہی ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہم ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے بانی پی ٹی آئی کو اچانک پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے قید تنہائی سمیت کئی اہم شکایات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک فون کے ذریعے رات ساڑھے آٹھ بجے فوری طور پر اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی جہاں پہنچنے پر ان کا فون بھی تحویل میں لے لیا گیا اور انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل حکام انہیں اور دیگر افراد کو ایک غیر مانوس اور ویران جگہ پر لے گئے اور جب انہوں نے استفسار کیا کہ انہیں کہاں لایا گیا ہے تو بتایا گیا کہ یہ پمز اسپتال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا واضح حکم تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جائے مگر اس عدالتی احکامات کے برعکس انہیں پمز منتقل کر دیا گیا جہاں آنکھ کا فالو اپ چیک اپ کرانا بتایا گیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق وہ اندھیرے میں موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں وارڈ تک پہنچیں جہاں ایک کمرے میں بانی پی ٹی آئی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں دیکھ کر پیار کیا اور بتایا کہ وہ صرف دس منٹ کے لیے اپنی بہن سے مل رہے ہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے شفا انٹرنیشنل اسپتال جانے سے انکار کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اسپتال جانے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے لیکن انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں آخر کار شفا اسپتال کیوں نہیں لے جایا گیا۔ ا

نہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شکوہ کیا کہ انہیں شدید ذہنی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ ظلم کی انتہا کی جا رہی ہے کیونکہ نہ تو انہیں ٹی وی دیکھنے کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی کوئی ریڈنگ میٹریل فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ طویل قید تنہائی کی وجہ سے ان کے سر میں تکلیف شروع ہو گئی تھی اور کوئی بھی ان کی بات سننے یا پروا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے یہ بھی بتایا کہ دسویں تاریخ کو کچھ ڈاکٹرز ان سے ملنے آئے تھے جنہوں نے تصدیق کی تھی کہ انہیں سخت قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جو کہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عظمیٰ خان کے بقول عمران خان نے کہا کہ انہوں نے مرسی کو اسی طرح قید تنہائی میں رکں کر مارا تھا.

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ماشاءاللہ بالکل فٹ تھے، ان کی آنکھ اور نظر پہلے سے بہت بہتر ہو رہی تھی۔

انہوں نے راستے کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی سے لاتے ہوئے راستے میں کوئی ٹریفک نہیں تھی اور گاڑیاں اس طرح رواں دواں تھیں جیسے اڑ رہی ہوں لیکن اس کے باوجود کسی نے بھی ان کے سوالات کے جوابات نہیں دیے۔

آخر میں ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے قانونی امور کے حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ وکلاء اپنی نقل و حرکت کو مزید تیز کریں۔