ٹرمپ انتظامیہ کا عالمی فوجداری عدالت پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ
سخت معاشی اقدامات کی تیاری، اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ پر دباؤ، روزمرہ امور متاثر ہوں گے
عالمی فوجداری عدالت اور امریکی پرچم کی ایک عکاسی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر وسیع پیمانے کی پابندیاں عائد کرنے کی حتمی تیاری کر لی ہے، جن کا اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یا اس کے فوراً بعد متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس اور دستیاب دستاویزات کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے تحت آئی سی سی کے ساتھ بیشتر مالی اور تجارتی لین دین پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، تاہم ان اقدامات کے نفاذ سے قبل 6 سے 7 ماہ کی مہلت دیے جانے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق امریکی پابندیوں کی زد میں صرف عدالت کے انفرادی عہدیدار نہیں بلکہ پورا ادارہ آ سکتا ہے۔ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو عدالت کو فنڈز، اشیا یا خدمات فراہم کرنے سے روکا جائے گا، جب تک امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے خصوصی اجازت جاری نہ کی جائے۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں آئی سی سی کے امریکی ڈالر میں ہونے والے لین دین بھی شدید متاثر ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اس اقدام کے ذریعے عدالت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری اور افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق اپنی سابقہ تحقیقات ختم کر دے۔
عالمی فوجداری عدالت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی براہ راست پابندیوں سے ادارے کی روزمرہ سرگرمیاں اور مالیاتی نظام تک رسائی مفلوج ہو سکتی ہے، جس میں آئی ٹی سروسز، انشورنس کی خریداری، تفتیش کاروں کی خدمات اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی جیسے امور شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا اس عدالت کا رکن نہیں اور ماضی میں بھی اس کے ججوں اور پراسیکیوٹرز کو نشانہ بناتا رہا ہے۔