مارچ کیلئے 20 لاکھ کا ہدف رکھا تھا، اب دگنا کردیا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

عمران خان کے علاج سے متعلق عدلیہ کا حکم ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا، ججز فیصلہ کرلیں، سہیل آفریدی

August 21, 2026 · اہم خبریں, قومی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پریس کانفرنس کر رہے ہیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پریس کانفرنس کر رہے ہیں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے 27 ستمبر کے مارچ کیلئے 20 لاکھ افراد کا ہدف رکھا تھا جسے انہوں نے اب دگنا کردیا ہے۔

اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تین ججز کے سپریم کورٹ کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ عوام کی آخری امید صرف عدلیہ سے وابستہ ہے، اور اگر عدلیہ ہی انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے اور اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرا سکے تو عوام انصاف کے حصول کے لیے کس کا رخ کریں گے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کے سب سے مقبول ترین رہنما ہیں جبکہ تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام پاکستانی شہری ایسے حالات میں اس ملک کے اندر اپنا مستقبل کیسے محفوظ تصور کرے گا جہاں ملک کے مقبول ترین لیڈر کے ساتھ اس طرح کا امتیازی اور غیر منصفانہ رویہ اپنایا جا رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے باقاعدہ طور پر یہ حکم صادر کیا تھا کہ عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کروایا جائے، مگر موجودہ حکومت اور انتظامیہ نے اس عدالتی حکم پر عمل کرنے سے صاف گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مسلسل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ آئین اور قانون سے بالاتر ہیں اور انہیں عدلیہ یا ججز کے احکامات کا کوئی خوف نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ججز کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا انہوں نے عدالتوں کو تالے لگانے ہیں یا پھر اپنے جاری کردہ فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کرانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل پیش آنے والا واقعہ محض تین ججز کی ذات کی توہین نہیں بلکہ یہ دراصل پوری عدلیہ کی توہین کے مترادف ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے الزام عائد کیا کہ ملک کی اشرافیہ نے عمران خان کو اغوا کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا اور اب آئین و قانون کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طاقتور حلقے عدلیہ اور ججز کے فیصلوں اور احکامات کو نہیں مانیں گے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملک میں ہر عام و خاص شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ججز کو آج ہی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانا ہے یا پھر عدالتیں بند کر دینی ہیں۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی سیاسی تحریک کو ہر صورت جاری رکھے گی اور بانی چیئرمین عمران خان کا ہر حکم ان کے لیے سر آنکھوں پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے انہیں تحریک کو مزید تیز کرنے کی خصوصی ہدایت دی ہے اور ان شاء اللہ یہ تحریک اب پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ آگے بڑھی گی۔ ا

ن کا کہنا تھا کہ وہ کل ہنگو اور پرسوں بونیر کا دورہ کریں گے جس کے بعد ملک بھر میں عوامی رابطے کی مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے اس پورے معاملے پر قانون کے مطابق بھرپور کارروائی کرے گی۔

صحت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے خود اپنی سرکاری رپورٹ میں عمران خان کی صحت کو تسلی بخش قرار نہیں دیا تھا اور ان کا بلڈ پریشر زیادہ ہونے کی واشگاف الفاظ میں نشاندہی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے نازک معاملے پر عدلیہ اور عوام دونوں کو دانستہ طور پر گمراہ کیا جا رہا ہے۔

جیل کے باہر ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہاں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی بھی کارکن موجود نہیں تھا اور پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو جیل کے اطراف جانے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ جو بھی شخص جیل کے اطراف جائے گا، اس کا تحریک انصاف کی جماعت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل کے باہر صرف میڈیا کے نمائندے موجود تھے اور وہاں موجود افراد کو پی ٹی آئی کا کارکن قرار دینا سراسر غلط اور من گھڑت پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے پختہ عزم ظاہر کیا کہ اب حکومت پر پریشر کم نہیں بلکہ ڈبل ہو چکا ہے، تحریک مزید تیز ہو گی اور عوام کی توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے ہندسوں کی طرف بڑھے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلے عوامی اجتماع کے لیے بیس لاکھ افراد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن کل کے اس افسوسناک واقعے کے بعد اب اس ہدف کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔