چینی تجارت جاری رہی تو ایران کو تنہا کرنا ممکن نہیں،نیویارک ٹائمز

چین ایران کا اہم تجارتی شراکت دار اور ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 41.2 ارب ڈالر رہا،

August 23, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے باوجود چین کے ساتھ ایران کے مضبوط تجارتی روابط واشنگٹن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق چین کے تعاون کے بغیر ایران کو مکمل طور پر عالمی معیشت سے الگ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین ایران کا اہم تجارتی شراکت دار اور ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 41.2 ارب ڈالر رہا، جبکہ اسی عرصے میں چین نے ایران سے تقریباً 31.2 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی تیل کی برآمدات میں چینی خریداروں کا حصہ بعض اوقات 90 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ ایران سے تیل خریدنے والی چینی نجی ریفائنریوں کو عموماً ’’ٹی پاٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ادارے عالمی مالیاتی نظام سے محدود وابستگی کے باعث امریکی پابندیوں کے اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے بینکوں، کمپنیوں، تیل کے کاروبار سے وابستہ اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کرسکتا ہے، تاہم چین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت جاری رہنے کی صورت میں تہران کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ برقرار رہے گا۔

دوسری جانب چین کے پاس بھی امریکا پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے مختلف ذرائع موجود ہیں۔ تجزیے کے مطابق بیجنگ اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے پر اثر ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے گزشتہ برس امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے دوران اہم معدنیات کی برآمدات محدود کرکے اپنے معاشی اثر و رسوخ کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس صورتحال کے باعث واشنگٹن کے لیے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے چین کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث واشنگٹن نے بحرالکاہل کے خطے سے بعض فوجی وسائل منتقل کیے ہیں، جسے چینی مبصرین ایشیا میں امریکی فوجی پوزیشن کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر تجزیے کے مطابق ایران کے خلاف امریکی معاشی حکمت عملی کی کامیابی بڑی حد تک چین کے رویے پر منحصر ہے۔ اگر بیجنگ تہران کے ساتھ تجارت اور ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے تو امریکا کے لیے ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر تنہا کرنا ایک مشکل ہدف ثابت ہوسکتا ہے۔