نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہی،157 افراد ہلاک،سینکڑوں لاپتا

بھاری مقدار میں ملبہ دریا میں جا گرا، جس کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے راستے میں موجود متعدد تنصیبات اور آبادیوں کو نقصان پہنچایا۔

August 27, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا (ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا (ایکس)

نیپال کے ہمالیائی سرحدی علاقے میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں مکانات، سڑکیں، گاڑیاں اور بجلی کے منصوبے متاثر ہوئے، جبکہ حکام کے مطابق اب تک 157 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیپال اور چین کے تبت سے ملحقہ سرحدی علاقے میں مٹی، چٹانوں اور پانی کے بڑے ریلے نے اچانک تباہی مچائی۔ ایک بڑے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بھاری مقدار میں ملبہ دریا میں جا گرا، جس کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے راستے میں موجود متعدد تنصیبات اور آبادیوں کو نقصان پہنچایا۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں افراد تاحال لاپتا ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نیپال کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق برآمد ہونے والی 157 لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ 484 سیاحوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لاپتا افراد میں 391 غیرملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔

وزارتِ سیاحت کے مطابق لاپتا غیرملکی شہریوں میں 100 سے زائد بھارتی، 3 امریکی اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

متاثرہ علاقہ تبت کے معروف مذہبی مقام کیلاش مانسروور جانے والے اہم راستے پر واقع ہے، جہاں ہر سال مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں سیاح اور مذہبی یاتری سفر کرتے ہیں۔

چین کے تبت کے گیریونگ علاقے میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق وہاں 3 افراد ہلاک جبکہ 265 افراد لاپتا ہیں۔ جنوبی کوریا نے بھی تصدیق کی ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے اس کے 8 شہری تاحال لاپتا ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں آنے والے 4.4 شدت کے زلزلے کے بعد ممکنہ طور پر گلیشیئر کے نچلے حصے میں انہدام ہوا، جس کے نتیجے میں برف، چٹانوں اور ملبے پر مشتمل ایک بڑا سیلابی ریلہ دریائے لہینڈے میں داخل ہوگیا۔

سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی جائزے کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کا مقام سرحدی گزرگاہ سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم پہاڑی علاقوں میں سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

چین نے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ڈرونز بھی روانہ کر دیے ہیں، جبکہ ریسکیو آپریشن کے لیے طیارے، ہیلی کاپٹر اور دیگر ضروری سامان تیار رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب سیلابی پانی کے بھارت کی جانب بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر اتر پردیش اور بہار میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بہار میں تقریباً 5 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید 10 سے 12 ہزار افراد کے ممکنہ انخلا کی تیاریاں جاری ہیں۔

قدرتی آفت کے باعث نیپال، تبت اور ملحقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا عمل جاری ہے۔