ایران کو پُرامن جوہری توانائی کی پیشکش، امریکا کا اہم مؤقف سامنے آگیا

اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا سخت اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔

August 27, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو پُرامن اور شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال پر اصولی اعتراض نہیں۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق واشنگٹن کا بنیادی مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا سخت اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکا نے ایران کو بھی سعودی عرب کی طرز پر تجارتی اور پُرامن جوہری توانائی کے حصول کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ اس سلسلے میں ایران کو شہری مقاصد کے لیے افزودہ یورینیم کی فراہمی کی تجویز بھی زیرِ غور ہونے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے سول نیوکلیئر انرجی کے استعمال کی گنجائش موجود ہے، تاہم تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے۔

کرس رائٹ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی سمت پیش قدمی کی تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کارروائی کا آپشن بھی موجود رہے گا۔

امریکی مؤقف میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔