افغانستان پر حملے کیلئے ایران نے امریکہ کو اڈے دیئے، سابق صدارتی مشیر کا اعتراف
ایرانی ٹی وی کو دیا گیا صادق خرازی کا ویڈیو انٹرویو وائرل ہونے لگا
ایران کے سینئر سابق سفارت کار اور صدارتی مشیر صادق خرازی کے انٹرویو سے اسکرین گریب
نائن الیون کے بعد 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے حوالے سے ایران کے ایک انتہائی سینئر سابق سفارت کار اور صدارتی مشیر صادق خرازی نے ایک سنسنی خیز اور تاریخی اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے ایران نے نہ صرف امریکی فوج کو اپنے اسٹریٹجک ہوائی اڈے فراہم کیے بلکہ زخمی امریکی فوجیوں کے لیے خون کے عطیات اور طبی امداد کا انتظام بھی کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ چونکا دینے والے انکشافات سابق صدر محمد خاتمی کے مشیر اور اقوامِ متحدہ میں ایران کے سابق سفیر صادق خرازی نے ایک حالیہ ویڈیو انٹرویو کے دوران کیے۔ یہ ویڈیو انٹرویو اگست 2026ء کے آخری ہفتے میں ایرانی نیوز ویب سائٹس “جماران”، “عصرِ ایران” اور “فرارو” پر منظرِ عام پر آیا، جس کے بعد یہ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
صادق خرازی نے انٹرویو میں واشنگٹن اور تہران کے پسِ پردہ تعلقات پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2001ء میں جب امریکہ نے افغانستان پر یلغار کی، تو ایران نے امریکی فورسز کو “بیشترین خدمات” (سب سے زیادہ سہولیات) فراہم کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے پاک افغان سرحد کے قریب واقع اپنے صوبے سیستان و بلوچستان میں ایک مخصوص ہوائی اڈہ (فرودگاہ) امریکی فوج کے اختیار میں دیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اگر جنگ کے دوران کسی امریکی جنگی طیارے کو ہنگامی لینڈنگ (Emergency Landing) کی ضرورت پڑے، یا کوئی امریکی فوجی مشکل میں ہو، تو وہ ایرانی حدود اور اڈوں کو بلا جھجھک استعمال کر سکے۔
“ہم نے امریکیوں کے لیے خون تک دیا”
سابق ایرانی مشیر نے جذباتی انداز میں ملامتی لہجے میں کہا کہ “ہم نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران امریکیوں کی اتنی مدد کی کہ ان کے زخمیوں کے لیے خون تک کا بندوبست کیا”۔
یہ پہلی بار ہے کہ ایران کے کسی اتنے اعلیٰ سطح کے سابق عہدیدار نے آن کیمرہ یہ تسلیم کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے امریکی فوجیوں کی جان بچانے کے لیے طبی اور لاجسٹک تعاون فراہم کیا تھا۔
سوئٹزرلینڈ کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ
ماہرینِ امور کے مطابق صادق خرازی کا یہ تازہ ترین بیان ان تاریخی دستاویزات اور دعوؤں کی تصدیق کرتا ہے جو طویل عرصے سے پسِ پردہ سفارت کاری کا حصہ رہے ہیں۔ 2001ء میں ایران کی اصلاح پسند (محمد خاتمی) حکومت اور امریکی حکام کے درمیان سوئس سفارت خانے کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ ایران نے اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت گرانے کے لیے اپنے زیرِ اثر افغان گروپ “شمالی اتحاد” (Northern Alliance) کو بھی امریکی فورسز کے ساتھ مل کر لڑنے پر آمادہ کیا تھا اور بون کانفرنس میں افغان حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
صادق خرازی نے انٹرویو میں واشنگٹن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی اس بے لوث اور تزویراتی (اسٹریٹجک) مدد کے باوجود امریکہ نے ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اتنی بڑی خدمات فراہم کرنے کے محض چند ماہ بعد، جنوری 2002ء میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی مشہورِ زمانہ تقریر میں ایران کو “محورِ شرارت” (Axis of Evil) کا حصہ قرار دے دیا، جو کہ ایران کے ساتھ ایک بڑا سفارتی دھوکہ تھا۔