عمران خان سے ملاقات، فون پر بات نہ کرانے پر دوسری توہین عدالت درخواست دائر
18 اگست کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ مؤقف
فائل فوٹو
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور اہلخانہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی سہولت فراہم نہ کیے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں دوسری توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمران خان کو ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی، جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خان، علیمہ خان اور قاسم زمان کو ان سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
درخواست کے ساتھ اضافی دستاویزات بھی عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں، جن کے لیے دو الگ متفرق درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔
دوسری توہین عدالت کی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت چیف کمشنر، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی حکم پر مبینہ طور پر جان بوجھ کر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ داری چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعظم کے دفتر پر عائد ہوتی ہے۔
درخواست میں یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس میں وضع کیے گئے اصول کا اطلاق موجودہ معاملے پر بھی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ 18 اگست کے حکم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عمران خان کی علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور قاسم زمان سے ملاقات کرائی جائے۔
اس کے علاوہ درخواست میں عمران خان کو ان کی بیٹیوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی سہولت فراہم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔