مقدمہ نہ لڑنے، مشعال کو رفاقت سے آزاد کرنے سمیت یاسین ملک کا بیان شہادت کا حصہ قرار

اگر انہیں سزائے موت بھی سنائی جاتی ہے تو وہ اسے قبول کریں گے، تاہم سزا قبول کرنے کا مطلب اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔یاسین ملک

September 3, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

مقدمہ نہ لڑنے اور اہلیہ مشعال کو رفاقت سے آزاد کرنے سمیت یاسین ملک کا بیان ان کےمقدمےمیں شہادت کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے یاسین ملک نے بھارتی نظام انصاف پر سنگین سوالات اٹھائے  تھے۔۔ دہلی ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو عدالت نے شہادت کا حصہ قرار دے دیا۔ 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ خدا پر چھوڑنے کا اعلان کیا، جبکہ اہلیہ مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں جمع کرائے گئے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں بھارتی عدالتی نظام سے انصاف کی توقع نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ سیاسی انتقام کے خلاف احتجاجاً اپنا مقدمہ مزید نہیں لڑیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا قبول کرنے کا مطلب اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:۔ https://ummat.net/1000364/

یاسین ملک نے حلف نامے میں طویل قید، تنہائی اور اہلخانہ سے برسوں کی جدائی کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہادری کے ساتھ ان کا ساتھ دیا، تاہم وہ انہیں طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔

یاسین ملک نے اپنی بیٹی کو بھی دادی سے رابطے میں رہنے اور ان کا غم کم کرنے کی تلقین کی۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اپنے خلاف مقدمے کی بنیاد بنائے گئے شواہد پر بھی سوالات اٹھائے۔

یاسین ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی ہے، اب مقدمے کا فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔