چالان کرنے کے لیے وارڈن کی جلدبازی موٹرسائیکل سوار کی جان لے گئی۔ حکومتی رکن کا اعتراف

صوبائی اسمبلی میں تحریک التوا پیش ۔ ایف آئی آر نہیں ہونی چاہیے تھی،ایم پی اے امجدجاوید

September 3, 2026 · امت خاص
تصویر: سوشل میڈیا

تصویر: سوشل میڈیا

لاہور میں ٹریفک وارڈن کی طرف سے موٹر سایکل سوار کو مبینہ طور پر دھکا دینے اور اس کی ہلاکت پر اراکین پنجاب اسمبلی میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے ۔ اس واقعے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسے پولیس کی ہائی ہینڈنیس قراریتے ہیں ۔ اس واقعہ پر حکومتی رکن امجد علی جاوید کی طرف سے صوبائی اسمبلی میں تحریک التوائے کار بھی جمع کرائی گئی جس پر آئوٹ آف ٹرن بحث کا امکان ہے۔تحریک التوامیں کہاگیاہے کہ چالانوں کا ٹارگٹ پوراکرنے کے لیے ٹریفک وارڈن کی جلدبازی نوجوان کی جان لے گئی۔تحریک التواکے متن میں مزید لکھاہے کہ ناکے پر نوجوان کو زبردستی روکنے کی کوشش کی گئی۔ موٹرسائیکل نہ روکنے پر وارڈن نے مبینہ طورپرسوار کو کک ماردی اور اسے دھکا دیاجس کے باعث وہ توازن کھوبیٹھا اور گرنے سے اس کے سرکی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ نوجوان پانچ روزبعد ہسپتال میں دم توڑگیا ۔ ٹریفک وارڈن نے جاں بحق نوجوان زین پر اوور اسپیڈنگ کا مقدمہ درج کرادیا۔

تحریک التواکے مطابق، لاہورٹریفک پولیس کو چالانوں کا ٹارگٹ دیاگیاتھا ، پورانہ کرنے پر شوکاز جاری کیا گیا ۔ٹارگٹ پورانہ کرنے پر کارروائی کا انتباہ ملا۔اس پر جائزناجائز چالان شروع کردیئے گئے جس کا نشانہ مذکورہ نوجوان بن گیا ، جس نے جان دے کر اس نادرشاہی حکم کاپالن کیا ۔

تحریک التواکے محرک رکن امجدعلی جاوید نے ’’ امت ڈیجیٹل ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ پر سب کے سرشرمندگی سے جھک گئے ۔

ایم پی اے امجدعلی نے ایک سوال پر کہا کہ حادثے میں جاں بحق جوان پر ایف آئی آر نہیں ہونی چاہیے تھی، واپس لی جائے ۔ان کا کہناتھاکہ پارٹی قیادت کو یہ ادراک ہوناچاہیے کہ صوبائی فورسز بے لگام ہوچکی ہیں اوروہ اپنے اختیارات سے تجاوزکررہی ہیں جس کے باعث اندوہناک واقعات ہورہے ہیں لوگوں میں نفرت کے جذبات پیداہورہے ہیں۔ایساکوئی کام نہ کیا جائے کہ لوگ حکومت کے خلاف آوازاٹھاناشروع کردیں۔