گلاسکو میں پاکستانی طالب علم پر نسل پرست گوروں کا تشدد

مصداق اسماعیل ستمبر 2025 میں تعلیم کے لیے پاکستان سے برطانیہ گئے تھے اور مڈل سیکس یونیورسٹی سے انٹرنیشنل فنانشل مینجمنٹ میں ایم ایس سی کر رہے ہیں۔

September 5, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا(ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا(ایکس)

برطانیہ کے شہر گلاسگو میں پاکستانی طالب علم مصداق اسماعیل مبینہ طور پر نسل پرستانہ حملے کا نشانہ بن گئے، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔

مصداق اسماعیل ستمبر 2025 میں تعلیم کے لیے پاکستان سے برطانیہ گئے تھے اور مڈل سیکس یونیورسٹی سے انٹرنیشنل فنانشل مینجمنٹ میں ایم ایس سی کر رہے ہیں۔

مصداق کے مطابق واقعہ اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے 3 بجے سٹیزن تھیٹر کے قریب پیش آیا، جب وہ اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک شخص نے ان کا پیچھا کیا اور راستے میں مبینہ طور پر نسل پرستانہ جملے کسے۔

زخمی طالب علم کے مطابق حملہ آور نے انہیں دھکے دیے اور جب انہوں نے خود کو بچانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر مکے مار کر شدید تشدد کیا۔ حملے کے نتیجے میں ان کی ناک سے شدید خون بہا اور ان کے کپڑے بھی خون سے بھر گئے۔

واقعے کے بعد مصداق اسماعیل کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سی ٹی اسکین سمیت مختلف طبی معائنے کیے گئے۔ ڈاکٹروں نے ان کے چہرے کی ہڈیوں میں فریکچر کی تصدیق کی۔

مصداق اسماعیل نے واقعے کی اطلاع پولیس اسکاٹ لینڈ کو بھی دی ہے۔ پولیس کے مطابق کیس نمبر 0388647/26 کے تحت تحقیقات جاری ہیں، تاہم حملے میں ملوث شخص کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔

زخمی طالب علم نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ برطانیہ میں انہیں اس نوعیت کے سنگین حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مصداق کے مطابق وہ واقعے کے بعد جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ خوف اور ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آور کی شناخت کے بعد واقعے کے محرکات اور ذمہ دار شخص کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔