بنگلہ دیش میں شدید توانائی بحران: نئی حکومت کے خلاف اپوزیشن کا پہلا بڑا لانگ مارچ
اپوزیشن کا چٹاگانگ کی جانب مارچ،گیس، بجلی اور کھاد کی قلت پر حکومت کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
فوٹو بشکریہ بنگلادیشی میڈیا
ڈھاکا:بنگلہ دیش میں ہزاروں اپوزیشن کارکنوں نے ہفتے کو لانگ مارچ شروع کر دیا، جس کا مقصد وزیر اعظم طارق رحمان کی حکومت پر گیس، بجلی اور کھاد کی شدید قلت کے معاملے پر دباؤ بڑھانا ہے۔
نئی حکومت کے چھ ماہ قبل اقتدار میں آنے کے بعد یہ اس کے خلاف اپوزیشن کی پہلی بڑی احتجاجی سرگرمی ہے۔
مظاہرین نے ڈھاکا کے ایک عوامی چوک میں جمع ہو کر بینرز اٹھائے اور نعرے لگائے ۔بعد ازاں انہوں نے بندرگاہی شہر چٹاگانگ کی جانب لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا۔ راستے میں مختلف مقامات پر احتجاجی اجتماعات بھی منعقد کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
اپوزیشن رہنما شفیق الرحمان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کا مقصد ہر گھر تک کھانا پکانے کے لیےگیس پہنچانا اور ہر گھر کو بجلی کی روشنی فراہم کرنا ہے۔
بنگلہ دیش کو ان دنوں گیس، بجلی اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی ایک وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ بھی بتائی جاتی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ایک روز قبل ایک کالج کے طالب علم کو مبینہ طور پر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی ہتک کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ طالب علم نے بجلی کے بھاری بلوں پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری اختلافِ رائے برداشت نہ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
اپوزیشن جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما اختر حسین نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ گیس، بجلی اور کھاد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور لوگوں کو آواز اٹھانے کی اجازت بھی نہیں دے رہے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔