پیوٹن کا کیف پر فضائی حملے تین دن روکنے کا حکم
حملوں میں وقفہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورۂ کیف کی تیاریوں کے سلسلے میں کیا گیا
فائل فوٹو
ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران سفارتی رابطوں کے لیے فضائی حملوں میں عارضی وقفے کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی ایلچیوں کے دورۂ یوکرین کے موقع پر کیف پر تین روز تک حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق حملوں میں وقفہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورۂ کیف کی تیاریوں کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ یہ وقفہ ہفتے کی نصف شب سے شروع ہوا۔
اس سے قبل اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں صدر پیوٹن سے تین گھنٹے سے زائد طویل ملاقات کی، جس میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی حکام نے مذاکرات کو مفید اور تعمیری قرار دیا، تاہم کسی حتمی پیش رفت یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
روسی صدارتی دفتر کے مطابق امریکی ایلچیوں نے جنگ کے خاتمے سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں، جبکہ صدر پیوٹن نے روس کے مؤقف اور جنگ کے بنیادی اسباب سے متعلق اپنی بات ان کے سامنے رکھی۔
دوسری جانب امریکی ایلچیوں کی کیف روانگی متوقع ہے جہاں وہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے۔ یوکرین نے بھی ایلچیوں کے دورے کے دوران فضائی حملوں سے گریز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بنیادی نکات پر اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ روس اپنے دیرینہ مطالبات پر قائم ہے جبکہ یوکرین اپنی سرزمین سے متعلق کسی ایسے سمجھوتے کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے جس میں علاقائی رعایت شامل ہو۔
تین روزہ محدود وقفے کو سفارتی رابطوں کے لیے ایک عارضی قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس سے مستقل جنگ بندی یا امن معاہدے کی ضمانت نہیں ملتی۔ مذاکرات میں پیش رفت کا انحصار آئندہ بات چیت اور دونوں فریقوں کے مؤقف میں ممکنہ لچک پر ہوگا۔