صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہلخانہ کا کراچی میں احتجاج، پولیس کا کریک ڈاؤن
وزارتِ خارجہ کے باہر دھرنے پر پولیس کی کارروائی، متعدد مظاہرین گرفتار اور سامان اٹھا لیا گیا
یرغمالی سیلرز کے لواحقین کو کراچی میں مظاہرہ کرنے پر پولیس گرفتار کر رہی ہے
صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 10 پاکستانی ملاحوں کے اہلخانہ نے کراچی میں وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا، جہاں پولیس نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عالمی بحری قوانین کے تحت قزاقوں کو تاوان ادا کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
مظاہرین وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن دھرنا دیے ہوئے تھے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو حراست میں لیا اور دھرنے کا سامان اٹھا کر پھینک دیا۔ صومالی قزاقوں نے اپریل 2026 میں Palau کے جھنڈے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو اغوا کیا تھا، جس پر عملے کے 17 ارکان سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شامل ہیں۔ ان ملاحوں کو یرغمال بنے 136 سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ پانی کی شدید قلت ہے اور ان کے پیارے انتہائی تشویشناک حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بالخصوص وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی سطح پر قزاقوں سے مذاکرات تیز کر کے ان کی فوری اور بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی شاہد حسین (@ShahidHussainJM) نے پولیس حراست میں مظاہرین کی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ کراچی میں صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ کا شارع فیصل پر وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاج۔ پولیس کا مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد افراد گرفتار، دھرنے کا سامان بھی اٹھا کر پھینک دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کررہے تھے، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں افسوسناک ہیں۔
کراچی: صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ کا شارع فیصل پر وزارتِ خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاج۔
پولیس کا مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن، متعدد افراد گرفتار، دھرنے کا سامان بھی اٹھا کر پھینک دیا گیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے… pic.twitter.com/QpcqzOxZV6
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) September 7, 2026