پسند کی شادی پر مری کے لڑکے کے خاندان سے دو بہنوں کا اغوا اور بازیابی
کئی گھنٹوں تک جرگے میں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا
تصویر : سوشل میڈیا
مری کی دو نوجوان مغوی بہنیں آزاد کشمیر سے بازیاب کرالی گئیں مگر اہل علاقہ سراپا احتجاج ہیں،اغواکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہاہے۔ نیو مری کے رہائشی شکیل عباسی کے بیٹے نے آزاد کشمیر کے علاقے باغ سے تعلق رکھنے والی سادات خاندان کی لڑکی سے کورٹ میرج کی۔ چند روز بعد رات تین بجے نامعلوم مسلح افراد نے مری کے تھانہ پتریاٹہ کی حدود میں واقع گاؤں کاکڑائی میں شکیل عباسی کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ خواتین پر تشدد کیا گیا، اور دو بہنوں کو اغواء کر کے لے گئے۔
متاثرہ فیملی کی شکایت پر ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر سپرا نے بچیوں کی بازیابی کے لیے پولیس ٹیم تشکیل دی جو کارروائی کے لیے آزاد کشمیر کے علاقے غربی باغ پہنچی۔اس دوران اغوا کاروں کی جانب سے مزاحمت کے نتیجے میں گولی لگنے سےمری پولیس کا ایک سب انسپکٹر لطیف زخمی ہو گیا جو راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو ہسپتال میں زیر علاج ہے۔دوسری طرف مری اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عمائدین کی جانب سے جرگے کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی اور اغوا کے دو دن بعد ایک تحریری معاہدے کے نتیجے میں مغوی بچیوں کو ان کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے میں وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی بھی آن بورڈ تھے جنہوں نے بچیوں کی بحفاظت بازیابی کی یقین دہانی کرائی۔ بچیوں کی بازیابی کے لیے سید علی رضا،شاہ گدی نشین بابا فدا حسین شاہ اور سردار لیاقت کی زیرِ صدارت اہم جرگہ بیٹھک میںفریقین کی جانب سے ثالثین مقرر کیے گئے۔جرگہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اغوا ہونے والی بچیوں کی جانب سے ثناء اللہ خان ستی، رضا عباس ، شفیق ستی، دلشاد ستی، عابد عباسی اور خضر محمود ستی ، سادات برادری کی جانب سے چیئرمین سردار شاہد آزاد، سید اعجاز شاہ، جاوید عباسی، سید ارشد شاہ اور سید عامر شاہ نے ثالثی میں کردار ادا کیا۔ اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ پتریاٹہ سعید اکبر کیانی بھی موجود تھے۔
کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں اور مذاکرات کے بعد سادات برادری کی جانب سے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے معاملات طے پا گئے اور فریقین کے درمیان تحریری معاہدہ بھی طے پایا۔مقدمات دونوں طرف سے واپس لئے جائیں گے، مزید قانونی کارروائ نہیں ہو گی۔دو مغوی بچیاں اور کورٹ میرج کرنے والی لڑکی بھی واپس کی جائے گی۔
ثالث جرگہ چیئرمین ڈھلکوٹ سردار شاہد آزاد اور رضا عباس کی موجودگی میں بچیوں کو کشمیر سے لواحقین کی موجودگی میں پتریاٹہ پولیس مری کے حوالے کیا گیا اور بعد ازاں ڈھلکوٹ پل پر دیگر جرگہ ثالثین اور معزین علاقہ کی موجودگی میں مری راونہ کر دیا گیا۔
مری کے عمائدین اور سول سوسائٹی نے مغوی لڑکیوں کی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، اس حوالے سے راولپنڈی میں گزشتہ شب ایک جرگہ منعقدہواجس میں سردار حسن اورنگزیب، راجہ ناصر محفوظ، پروفیسر اشفاق کلیم،ندیم عباسی، راجہ تیمور عباسی، عمر ستی، سردار عثمان عباسی،عاشق جہانگیر عباسی، ارسلان ایاز اور دیگر نے شرکت کی۔جرگے میں طے کیا گیا کہ آئندہ دو روز میں گرینڈ جرگہ منعقد کر کے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔