بھارت کی گندگی بے نقاب کرنے والا سرکاری افسر ہیرو بن گیا
مختلف ریسٹورانٹس اور کھانے کی جگہوں کے کچن میں کاکروچ گھومتے ہوئے، دیواروں پر مکڑی کے جالے، خراب اور سڑی ہوئی سبزیاں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں
فوٹو گوگل
ممبئی: بھارت میں ہوٹلوں، ریسٹورانٹس اور کھانے پینے کے مراکز میں ناقص صفائی اور حفظانِ صحت کے مسائل بے نقاب کرنے والے سرکاری افسر توکارام منڈھے سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کرکے ایک طرح سے عوامی ہیرو بن گئے ہیں۔
مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے فوڈ کمشنر توکارام منڈھے نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ریاست بھر میں کھانے پینے کے کاروباروں کے خلاف بڑے پیمانے پر معائنوں کا آغاز کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران کئی ایسے مناظر سامنے آئے جنہوں نے صارفین کو بھی حیران کردیا۔
مختلف ریسٹورانٹس اور کھانے کی جگہوں کے کچن میں کاکروچ گھومتے ہوئے، دیواروں پر مکڑی کے جالے، خراب اور سڑی ہوئی سبزیاں جبکہ کھانے کے کاؤنٹرز کے قریب کیڑوں کی موجودگی جیسے مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ ان کارروائیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلیں اور توکارام منڈھے کی شہرت میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
ہزاروں مقامات کا معائنہ
تواکرم منڈھے نے مئی میں فوڈ کمشنر کا منصب سنبھالنے کے بعد فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے مہم شروع کی۔ جولائی کے اختتام تک محکمہ 3 ہزار 100 سے زائد معائنے کرچکا تھا جبکہ بعد میں یہ تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
کارروائی کے دوران تقریباً 300 لائسنس معطل کیے گئے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ کاروباری اداروں کو بہتری کے نوٹس جاری کیے گئے۔ شہریوں کی شکایات کے لیے قائم کیے گئے نئے نظام کو بھی ابتدائی تین ماہ میں 16 ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔
منڈھے کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین سب کے لیے یکساں ہیں اور کسی کاروبار کی شہرت، حجم یا اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے قانون میں نرمی نہیں کی جائے گی۔
سرکاری افسر سے سوشل میڈیا اسٹار تک
تواکرم منڈھے کی کارروائیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ معائنے کے دوران ان کا سخت رویہ، موقع پر سوالات اور ناقص صفائی پر فوری کارروائی عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
رپورٹس کے مطابق ان کے سماجی رابطوں کے صفحے پر 38 لاکھ سے زیادہ افراد انہیں فالو کررہے ہیں۔ ان کے معائنے سے متعلق ویڈیوز اور مختصر ویڈیو کلپس کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جاتا ہے جبکہ مختلف پروگراموں اور انٹرنیٹ نشریات میں بھی ان کے اقدامات پر گفتگو کی جارہی ہے۔
عوام کے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ عام شہری برسوں سے کھانے پینے کی جگہوں پر صفائی کے ناقص انتظامات کی شکایات کرتے رہے ہیں، لیکن اب پہلی مرتبہ کارروائی کو اتنی نمایاں طور پر عوام کے سامنے دیکھا جارہا ہے۔
ماضی میں بھی سخت اقدامات کے باعث شہرت
تواکرم منڈھے کا سخت انتظامی انداز نیا نہیں۔ وہ بھارتی انتظامی سروس کے افسر ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ان کے متعدد تبادلے بھی خبروں میں رہے ہیں۔ منڈھے کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب اپنے تبادلوں کی تعداد گننا بھی چھوڑ دی ہے۔
ان کے حامی ان تبادلوں کو اس بات کی علامت قرار دیتے ہیں کہ وہ سیاسی یا انتظامی دباؤ کے بجائے اپنے اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان کا طریقہ کار بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔
اس سے قبل وہ ناگپور کے میونسپل کمشنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کے تحفظ کے منصوبوں پر کام کے باعث بھی انہیں پذیرائی ملی تھی۔
بھارت میں ناقص خوراک کا مسئلہ
بھارت میں کھانے پینے کی اشیا کے معیار اور حفظانِ صحت کا مسئلہ کافی وسیع ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران ملک بھر میں 2 لاکھ 23 ہزار 808 کھانے کے نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں تقریباً ہر پانچواں نمونہ مقررہ معیار پر پورا نہیں اترا۔
ان نمونوں میں غیر محفوظ، غیر معیاری یا غلط لیبل والی اشیا شامل تھیں۔
فوڈ سیفٹی کے سابق حکام اور ماہرین کے مطابق اس شعبے میں نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ توکارام منڈھے کی مہم نے اسی مسئلے کو دوبارہ عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
کارروائی پر کاروباری حلقوں کے اعتراضات
اگرچہ صارفین کی بڑی تعداد منڈھے کی کارروائیوں کو سراہ رہی ہے، تاہم ریسٹورانٹس اور کھانے پینے کی صنعت سے وابستہ بعض حلقے ان کے طریقہ کار پر اعتراض بھی کررہے ہیں۔
صنعتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں کاروباری اداروں کو قانونی طریقہ کار کے تحت اپنی خامیاں دور کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق معمولی یا قابلِ اصلاح مسائل پر فوری سخت کارروائی کاروباری افراد کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
بھارتی فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت عام طور پر اداروں کو خلاف ورزی دور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جبکہ فوری طور پر لائسنس معطل کرنے کا اختیار مخصوص ہنگامی حالات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تواکرم منڈھے نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کارروائیاں قانون کے دائرے میں ہیں اور لائسنس معطلی صرف سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں کی صورت میں کی جاتی ہے۔
یوں کھانے پینے کے مراکز میں گندگی اور ناقص حفظانِ صحت کے خلاف کارروائی کرنے والا یہ بھارتی سرکاری افسر اب محض ایک انتظامی اہلکار نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ایک جانب عوام اسے کھانے کے معیار اور صفائی کے لیے آواز اٹھانے والا افسر قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب کاروباری حلقوں کی تنقید نے اس مہم کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔