جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد کے الزام میں 3 افرادزیرحراست

گاڑی ٹکرانے پر غریب ڈرائیور کا نقصان پورا کرنے کا کہنے پرپروفیسر عارف ساقی پر حملہ کیا گیا۔

September 8, 2026 · قومی

فائل فوٹو

کراچی: پولیس نے جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف خان ساقی پر تشدد میں ملوث 3 افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق سینئر پروفیسر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے جامعہ کراچی جارہے تھے کہ صفورا چوک کے قریب ایک مقام پر رکے تو ڈبل کیبن نے ریورس میں ان کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ گاڑی کو نقصان پہنچنے پر ڈبل کیبن میں سوار مقامی ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور گن مینوں نے پروفیسر پر تشدد کیا، سر پر پستول کے بٹ مارے، دھکے دیے اور گھسیٹ کر ریسٹورنٹ لے گئے، جہاں بھی مارپیٹ کی گئی۔

پروفیسر عارف ساقی نے بتایا کہ آن لائن ٹیکسی کی گاڑی کو ٹکر لگنے پر انہوں نے گاڑی میں سوار افراد سے کہا تھا کہ غریب لڑکے کا نقصان پورا کردیں، جس پر ہوٹل کے مالک کے بیٹے نے انہیں پستول کے بٹ مارے اور ہوائی فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق زیرحراست افراد ہوٹل ملازم ہیں اور واقعے میں ملوث مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔

جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ نے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد کے واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں سچل تھانے میں کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج کیا گیا، جس میں اقدام قتل، مارپیٹ، زخمی کرنے اور حبسِ بے جا کی دفعات شامل ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق دو گن مینوں نے پروفیسر عارف ساقی اور ان کے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ درخواست گزار کے مطابق صفورا چوک پر ان کی گاڑی کو نقصان پہنچانے پر ازالے کا مطالبہ کیا گیا، جس کے بعد زخمی ہونے پر ملزمان انہیں اور ان کے بھتیجے کو ہوٹل لے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق ہوٹل میں بھی پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو حبسِ بے جا میں رکھ کر تشدد کیا گیا۔ ملزمان کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، جبکہ مسلح افراد بھتیجے کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

پروفیسر عارف خان ساقی کے مطابق پولیس موقع پر پہنچی اور انہیں اور ان کے بھتیجے کو بازیاب کرایا، جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔