اسرائیل کا جوابی وار: مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے سمیت متعدد پابندیوں کا اعلان

یہ اقدامات لیبر حکومت کے ’اسرائیل مخالف فیصلوں کے ایک سلسلے‘ کے بعد کیے جا رہے ہیں،اسرائیلی وزیرِ خارجہ

September 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تل ابیب: برطانیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانہ بھی بند کر دیا جائے گا۔

منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے کہا کہ اسرائیل یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کر دے گا۔

برطانوی حکومت کے مطابق ’یروشلم میں برطانیہ کا قونصل جنرل‘ یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے اور برطانیہ اور فلسطین کے درمیان سیاسی، تجارتی، سکیورٹی اور اقتصادی مفادات پر کام کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے برطانوی حکومت کی جانب سے آج اعلان کردہ پابندیوں کے جواب میں ’اسرائیلی جوابی اقدامات‘ کے ایک سلسلے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات لیبر حکومت کے ’اسرائیل مخالف فیصلوں کے ایک سلسلے‘ کے بعد کیے جا رہے ہیں جبکہ انھوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ پر ’بے بنیاد اور اشتعال انگیز جھوٹ‘ بولنے کا الزام بھی عائد کیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ لیبر حکومت ’منظم انداز میں ریاستِ اسرائیل کے خلاف کام کر رہی ہے۔‘

یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کے علاوہ اسرائیل نے برطانیہ کے خلاف جن جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ یہ ہیں،جنوبی اسرائیل کے شہر کیریات گات میں قائم انٹرنیشنل غزہ سپورٹ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کو ہٹا دے گا۔

رام اللہ میں قائم برٹش سپورٹ ٹیم کے تحت فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کو دی جانے والی برطانوی تربیتی سرگرمیوں کا خاتمہ۔ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کو ’یہودیا اور سامریہ‘ کے نام سے پکارتی ہے۔

12 برطانوی منتخب نمائندوں اور دیگر برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی۔ ساعر کے مطابق یہ پابندی ان افراد پر عائد کی جائے گی جو ’یہود مخالف یا اسرائیل مخالف سرگرمیوں‘ میں ملوث ہیں، یا جو ’ریاستِ اسرائیل کے وجود ہی سے انکار کرتے ہیں۔