امریکہ نے 27 ایرانی فضائی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
ایرانی حکومت کو مالی سہارا فراہم کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی محکمۂ خزانہ نے منگل کے روز ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور چند دیگر اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام ایران کی معیشت کو مزید عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب تہران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے آبنائے ہرمز اور آس پاس کے علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے تحت کیے گئے اس تازہ اقدام میں ان تمام ایرانی فضائی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اس سے قبل امریکی پابندیوں کی زد میں نہیں آئی تھیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ایرانی حکومت کو مالی سہارا فراہم کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج ہم نے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو اب بھی ماہان ایئر کی حمایت کر رہی ہیں۔
ماہان ایئر ایران کی نجی فضائی کمپنیوں میں شامل ہے اور ماضی میں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کر چکی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی وسائل تک رسائی کو محدود کرنا ہے اور ان کمپنیوں کو نشانہ بنانا ہے جو ایرانی فضائی کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں میں معاونت کر رہی ہیں۔