سعودی ولی عہد کی زیر صدارت کابینہ اجلاس،حوثی حملوں کی مذمت

سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور ملک میں مقیم افراد کی سلامتی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔کابینہ

September 9, 2026 · بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں علاقائی صورتحال، فلسطین سمیت عالمی امور اور مختلف ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس کے آغاز میں شہزادہ محمد بن سلمان نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور رابطوں کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا۔

سعودی کابینہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی۔ اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کابینہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور ملک میں مقیم افراد کی سلامتی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ سعودی کابینہ نے اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے عرب ممالک کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری، توسیع پسندانہ پالیسیوں اور جبری بے دخلی کی مخالفت کی۔

سعودی کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون سے متعلق متعدد دیگر معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں لیپ 2026 کے نتائج کو بھی سراہا گیا، جس کے دوران تقریباً 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، معاہدوں اور مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔

کابینہ نے سعودی عرب اور اسپین کے درمیان سفارتی، خصوصی اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے سمیت سوئٹزرلینڈ کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے کی بھی منظوری دی۔