کراچی:پروفیسرعارف ساقی پر تشدد، پولیس نے ملزمان کا ہوٹل بند کروا دیا

اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ہوٹل کو بند کرکے نفری تعینات کر دی گئی، پولیس حکام

September 10, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر عارف ساقی اور بھتیجے پر تشدد کے معاملے پر پولیس نے صفورا پر واقع ہوٹل کو بند کروا دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ہوٹل کو بند کرکے نفری تعینات کر دی گئی، انویسٹی گیشن پولیس نے واقعے کے بعد مجموعی طور پر 5 ملزمان کو گرفتار کیا جو ریمانڈ پر ہیں۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت ملیر نے کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر عارف ساقی اور ان کے بھتیجے پر تشدد کے کیس میں مرکزی ملزم کونین شاہ کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔

عدالت نے ملزم کونین کو 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے اسے شاملِ تفتیش ہونے کی ہدایت کی۔

سیشن عدالت ملیر نے درخواستِ ضمانت کی سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر کو طلب کر لیا۔

خیال رہے کہ 8 ستمبر کو جامعہ کراچی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ پروفیسر عارف ساقی کا غریب کے لیے آواز اٹھانا جرم بن گیا تھا، بااثر افراد نے بات ماننے کے بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

ملزمان نے پروفیسر عارف ساقی کے سر پر پستول کے بٹ مارے، ہوائی فائرنگ کی اور اپنے ریسٹورنٹ میں زبردستی بٹھائے رکھا۔

پروفیسر عارف ساقی نے بتایا تھا کہ صفورا چورنگی پر ڈبل کیبن کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز نے رکنے کا اشارہ کیا، پھر تیزی سے ریورس کرتے ہوئے آن لائن ٹیکسی سے ڈبل کیبن ٹکرا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے نقصان بھرنے کا مطالبہ کیا تو ڈبل کیبن سے نکلنے والے شخص نے تشدد کیا، دھکے دیے، گھسیٹ کر ریسٹورنٹ میں لے گئے وہاں بھی مار پیٹ کی۔