حوثیوں کے حملوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل دینے کا اعلان

حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحے کے ذخائر تھے۔

September 15, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

سعودی عرب نے اپنے علاقوں پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کا سخت جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایران نے یمن کے تنازع میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کردی۔

حوثیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے مطابق حملوں کا ہدف فوجی تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحے کے ذخائر تھے۔

سعودی حکام نے خمیس مشیط سمیت جنوبی علاقوں کے مختلف شہروں میں ہنگامی انتباہ جاری کیے۔ سعودی اتحاد کے مطابق یمن سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔

حوثیوں نے گزشتہ چند روز کے دوران سعودی عرب کے مختلف علاقوں، خصوصاً یمن کی سرحد سے ملحق جنوبی علاقوں میں موجود تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے بھی کیے ہیں۔

ادھر یمن میں بھی جھڑپوں میں شدت آگئی ہے۔ یمنی فوجی ذرائع کے مطابق مأرب اور الجوف کے درمیان سرکاری فورسز کی پوزیشنوں پر حوثیوں کے میزائل حملوں میں 8 فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں نے یمن میں حکومت کی حامی فورسز کے خلاف کئی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے، جس کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حوثیوں نے باب المندب کے قریب کارروائیوں کے بعد اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بھی توسیع کی ہے۔

سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، تاہم گزشتہ برسوں کے دوران جنگ بندی کے باعث تنازع کی شدت میں نمایاں کمی آئی تھی۔ حالیہ عرصے میں یمن میں دوبارہ لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔

دوسری جانب ایران نے یمن کی صورتحال میں کسی بھی براہِ راست کردار کی تردید کردی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

ایرانی ترجمان کے مطابق حوثی ایک خودمختار گروہ ہیں اور اپنے فیصلے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کرتے ہیں۔