میر رضا کیس میں پولیس سرجن سمیعہ سید کو دھمکانے میں سی آئی اے انسپکٹر ملوث نکلا

جوڈیشل کمیشن نے طلب کرلیا، ڈاکٹر سمعیہ پر قبضے کا الزام بھی لگایا گیا، ڈی آئی جی عامر فاروقی کے کردار پر بھی تحقیقات کا فیصلہ

September 15, 2026 · قومی
ڈاکٹر سمعیہ سید

ڈاکٹر سمعیہ سید

کراچی میں میر رضا قتل کیس کی سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کو دھمکیاں ملنے اور ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے ساتویں اجلاس میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ کیس کی وجہ سے انہیں مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے اور دو دن تک ان کا موٹر سائیکل پر پیچھا بھی کیا گیا۔ دستاویزات اور کمیشن کے روبرو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق، سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا پتہ اور شوہر کا نام چلایا گیا جبکہ ان پر زمین پر قبضے کا جھوٹا الزام بھی عائد کیا گیا، جس کی باضابطہ شکایت این سی سی آئی اے میں درج کرا دی گئی ہے۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ سی آئی اے کا ایک انسپکٹر مبینہ طور پر ڈاکٹر سمعیہ سے ریکارڈ طلب کر رہا تھا۔ اس صورتحال پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کسی بھی صورت میں ناقابل قبول قرار دیا۔ کمیشن نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے سی آئی اے انسپکٹر محمد علی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں۔ اس کے علاوہ، کمیشن نے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ اس سارا معاملے کو فوری طور پر وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کے نوٹس میں لایا جائے۔

دستاویز کے مطابق، کمیشن نے ڈی آئی جی عامر فاروقی کے مبینہ دھمکی آمیز رویے اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے سے متعلق شکایت کا بھی سختی سے نوٹس لیا ہے، اور انہیں آئندہ سماعت پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ سماعت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ نے بھی اس موقع پر اپنے بیانات قلمبند کرائے، جبکہ کیس کے دیگر گواہوں، بشمول بزنس مینیجر شہریار اور دیگر افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

کمیشن نے میر رضا کی والدہ کو نجی بینک میں ان کے اعلیٰ عہدے کے پیشِ نظر ڈیوٹی سے جلد فارغ کرنے کے لیے سی ای او کو ہمدردانہ خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، تاکہ وہ بلا تاخیر کارروائی میں شرکت کر سکیں۔