امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے صدر ٹرمپ کی متنازع ویزا پالیسی پر عمل درآمد روک دیا
ٹرمپ کی نئی متنازع پالیسی کے تحت طلبا اور صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت بہت کم کردی گئی تھی۔
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈینس سیلر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت محدود کرنے کی نئی ویزا پالیسی کے نفاذ کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک پرانی ویزا پالیسی نافذ العمل رہے گی، جس کے تحت طلبا کو تعلیم کی تکمیل اور صحافیوں کو کم از کم 5 سال تک قیام کی اجازت ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قانونی امیگریشن کو سخت کرنے کی وسیع تر پالیسی کے تحت ویزا کے نئے قواعد نافذ کیے تھے۔ اس پالیسی کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اسٹوڈنٹ ویزا ہولڈرز کے لیے قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ 4 سال مقرر کی تھی، جبکہ غیرملکی صحافیوں کو صرف 240 دن (تقریباً 8 ماہ) اور چینی صحافیوں کو محض 90 دن کی اجازت دی گئی تھی۔
مدت ختم ہونے کے بعد تمام افراد کے لیے ویزا کی توسیع کا دوبارہ پروسیس لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف طلبا، اساتذہ، جامعات اور صحافی یونینوں کے اتحاد نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مجوزہ قواعد کے تحت اسٹوڈینٹ ویزا رکھنے والے غیرملکی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 4 سال تک امریکا میں رہنے کی اجازت دی جانی تھی جس کے بعد انہیں قیام جاری رکھنے کے لیے توسیع کی درخواست دینا پڑتی۔
اس کے برعکس نئی پالیسی سے پہلے یعنی موجودہ نظام میں غیرملکی طلبا کو عموماً اپنی تعلیم کی مدت مکمل ہونے تک امریکا میں قیام کی اجازت ہوتی تھی اور جب تک تعلیم مکمل نہ ہوجائے توسیع کے لیے دوبارہ پراسس نہیں کرنا پڑتا تھا۔
اسی طرح ٹرمپ کے نئے قواعد کے تحت غیرملکی صحافیوں کو امریکا میں زیادہ سے زیادہ 240 دن، یعنی تقریباً 8 ماہ قیام کی اجازت ہوتی جس کے بعد مزید توسیع کے لیے درخواست دینا پڑتی۔
حالانکہ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے نفاذ سے قبل غیرملکی صحافیوں کو امریکا میں کم از کم 5 سال تک قیام کرنے کی اجازت ہوتی تھی جسے اب صرف 8 ماہ کردیا گیا تھا۔
ٹرمپ کی نئی پالیسی کے تحت چین سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے مجوزہ مدت اس سے بھی کم یعنی صرف 90 دن مقرر کی گئی تھی تاہم وہ بھی مزید 90 دن کی توسیع کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔
ٹرمپ کی اس نئی پالیسی سے دنیا بھر کے ہزاروں طلبا اور صحافی متاثر ہوئے تھے تاہم اب عدالت نے اس پالیسی کو معطل کرکے کیس کا مکمل فیصلہ آنے تک پرانی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ جج ڈینس سیلر نے نئی پالیسی کے نفاذ کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کردیا یعنی حتمی فیصلہ آنے تک پرانی پالیسی نافذالعمل رہے گی جس کے تحت طلبا کو تعلیم مکمل ہونے اور صحافیوں کو پانچ سال تک قیام کی اجازت ہوگی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 کے تعلیمی سال میں امریکا میں 11 لاکھ سے زائد غیرملکی طلبا زیر تعلیم تھے جو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
عدالت کی جانب سے نئے قواعد کا نفاذ روکنے کے بعد فی الحال غیرملکی طلبا اور صحافیوں کے لیے مجوزہ مختصر ویزا مدت نافذ نہیں ہوگی جبکہ 2 اکتوبر کی سماعت میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے امیگریشن پالیسی کو سخت کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں قانونی امیگریشن کے مختلف راستوں پر پابندیاں، ویزا نظام میں اضافی جانچ پڑتال اور امریکا میں غیرملکی شہریوں کے قیام کو محدود کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔