نقل کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا سہارا، پکڑے جانے پر طالب علم کی خودکشی
طالب علم کے خلاف اس معاملے پر کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی
فائل فوٹو
بھارت کے معروف تعلیمی ادارے آئی آئی ٹی بمبئی میں امتحان کے دوران چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے معاملے کے بعد دوسرے سال کے ایک طالب علم کی موت نے کیمپس میں احتجاج کی صورت حال پیدا کردی۔
ادارے کے مطابق انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے طالب علم کو امتحان کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ آئی آئی ٹی بمبئی کا کہنا ہے کہ طالب علم نے امتحانی سوالنامہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
انتظامیہ کے مطابق طالب علم کے خلاف اس معاملے پر کوئی باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ انسٹرکٹر اور شعبے کے سربراہ نے بھی اس سے بات کی، اس کی رہنمائی کی اور اسے یقین دلایا کہ امتحان کے دوران پیش آنے والے واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ اس گفتگو کے بعد طالب علم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، جہاں بعد میں اسے مردہ پایا گیا۔
واقعے کے بعد آئی آئی ٹی بمبئی کے طلبہ نے احتجاج شروع کردیا۔ طلبہ نے انتظامیہ سے واقعے کی مکمل تفصیلات اور شفاف وضاحت کا مطالبہ کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج میں سیکڑوں طلبہ شریک ہوئے، جبکہ جاری وسط مدتی امتحانات بھی متاثر ہوئے۔
احتجاج کرنے والے بعض طلبہ کا دعویٰ ہے کہ طالب علم کو نقل کے معاملے پر سخت تادیبی کارروائی اور ایک سال کی معطلی کا سامنا ہوسکتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں طالب علم کی تعلیم متاثر ہونے کے ساتھ اسے ہاسٹل بھی چھوڑنا پڑ سکتا تھا۔
تاہم ایک سال کی معطلی کی دھمکی سمیت ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ آئی آئی ٹی بمبئی کا واضح مؤقف ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی اور اسے اس واقعے کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثر نہ پڑنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
پولیس اور متعلقہ حکام طالب علم کی موت سے جڑے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ آئی آئی ٹی بمبئی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ طالب علم کے ساتھیوں، اساتذہ اور دیگر طلبہ کو معاونت فراہم کرنے کی بات بھی کی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رواں سال آئی آئی ٹی بمبئی کے پوائی کیمپس میں طالب علم کی تیسری خودکشی کی اطلاع ہے، جس کے بعد کیمپس میں طلبہ کی جانب سے ذہنی دباؤ، انتظامی شفافیت اور طلبہ کی معاونت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔