وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا ترمیمی پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

طلال چوہدری کا کہنا ہےکہ مجوزہ قانون میں سیاسی عمل دخل واضح،وفاق کے پاس متعدد آپشنز

September 24, 2026 · قومی

طلال چوہدری کا خیبرپختونخوا کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بیان

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے، بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے۔ ان کے مطابق وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت سے آپشنز ہیں اور یہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے بلکہ پوری کمانڈ تباہ کردی ہے۔ مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آرہا ہے۔

وزیر مملکت داخلہ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اختیار اپنی جیب میں اور اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا 15، 20 سال سے دہشتگردی کی جنگ لڑ رہا ہے، مگر وہاں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کرائے کی عمارتوں میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں صوبائی وزیر اٹھایا گیا ہے، اگر آپ اتنے بے بس ہیں تو کیوں کرسی سے چپکے ہوئے ہیں؟

اسلام آباد میں راستوں کی بندش سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کابینہ نے نئے پولیس ایکٹ کی منظوری دی تھی۔ اس کے تحت آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت مطمئن نہ ہو تو اس کے تبادلے کے لیے وفاق سے مزید نام مانگ سکتی ہے، جبکہ پوسٹنگز اور تبادلوں کا اختیار بھی صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔