ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے فوجی سربراہان کی ریاض میں اہم ملاقات، دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق
ریاض میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات، دفاعی اشتراک کا نیا باب، عسکری تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے فوجی سربراہان ریاض میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران۔
ریاض (نیوز ڈیسک) ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق بایرکتاروغلو نے سعودی دارالحکومت ریاض میں اپنے پاکستانی اور سعودی ہم منصبوں کے ساتھ ایک اہم اور اعلیٰ سطح کی ملاقات کی ہے۔
ترکی وزارتِ دفاع کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ریاض میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں ترکیہ کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق بایرکتاروغلو نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی کے ساتھ باضابطہ مذاکرات میں شرکت کی۔
دستاویز کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی عسکری مذاکرات حال ہی میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ” کے فریم ورک کے تحت منعقد کیے گئے۔
اجلاس میں تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے، انٹیلی جنس کے تبادلے، عسکری ہم آہنگی اور صلاحیتوں کے انضمام کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا تاکہ مؤثر دفاع اور اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ شرکاء نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان طویل المدتی تعلقات اور باہمی اعتماد کو سراہا۔
ریاض میں منعقدہ اس اجلاس سے تینوں ممالک کے دفاعی شراکت دار کی مضبوطی کا اظہار ہوتا ہے۔ شرکاء نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عزم کو فوری طور پر مؤثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس کے اختتام پر اجتماعی دفاع کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا گیا جو سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور ارضی سالمیت کے دفاع کے لیے تینوں ممالک کے غیر متزلزل ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔
