امریکی گھروں میں ’روبوٹ ماسی‘ کی انٹری، فی گھنٹہ 30 ڈالر فیس

گھروں اور دفاتر میں کئی روزمرہ کام انجام دے سکتے ہیں۔

September 26, 2026 · چشم حیرت
امریکی گھروں میں ’روبوٹ ماسی‘ کی انٹری، فی گھنٹہ 30 ڈالر فیس

امریکی گھروں میں ’روبوٹ ماسی‘ کی انٹری، فی گھنٹہ 30 ڈالر فیس

امریکا میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے استعمال میں تیزی کے ساتھ گھریلو صفائی کے کاموں کے لیے جدید روبوٹس بھی متعارف کرا دیے گئے ہیں، جو گھروں اور دفاتر میں کئی روزمرہ کام انجام دے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک امریکی روبوٹکس کمپنی نے ایسے اے آئی روبوٹس تیار کیے ہیں جو انسانی معاونت کے ساتھ مختلف گھریلو امور انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ روبوٹس فرش کی صفائی، قالین کی ویکیومنگ، کچن میں پھیلی گندگی سمیٹنے اور کچرے کو مقررہ جگہ تک پہنچانے جیسے کام کر سکتے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے ان روبوٹس کی سروس کے لیے فی گھنٹہ 30 ڈالر فیس وصول کی جا رہی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 8 ہزار 370 روپے بنتی ہے۔

اگرچہ پاکستانی صارفین کے لیے یہ رقم خاصی زیادہ ہے، تاہم امریکا کے بعض شہروں میں گھریلو ملازمین کی کمی کے باعث صاحبِ حیثیت افراد روبوٹک سروسز میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

روبوٹکس کے ماہرین ان مشینوں کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں یہ برتن اور کپڑے دھونے جیسے مزید پیچیدہ گھریلو کام بھی انجام دے سکیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس بالخصوص عمر رسیدہ افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ روزمرہ کے کئی کام خود انجام دینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی یہ پیش رفت ٹیکنالوجی کے ان مثبت استعمالات میں شامل ہو سکتی ہے جن کے ذریعے لوگوں کی روزمرہ زندگی آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔