انکم ٹیکس گوشواروں کے پاس ورڈز میں اچانک تبدیلی سے ٹیکس دہندگان کو شدید مشکلات
اہم پیش رفت، پاس ورڈز کی تبدیلی پر تشویش، تاریخ میں توسیع کا مطالبہ
ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس پورٹل اور پاس ورڈز کی تبدیلی سے متعلق ایک منظر
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کے پاس ورڈز اچانک تبدیل کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث ٹیکس دہندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایف بی آر کے اس اقدام اور آئی آر آئی ایس (IRIS) پورٹل میں تکنیکی دشواریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ریحان حنیف نے ایف بی آر سے فوری طور پر سابقہ پاس ورڈز بحال کرنے اور گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ (30 ستمبر) میں کم از کم 1 ماہ کی توسیع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے تمام انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے افراد کے پاس ورڈز تبدیل کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث آخری دنوں میں ٹیکس دہندگان کو پورٹل تک رسائی اور گوشوارے جمع کرانے میں شدید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ بیرونِ ملک یا سفر میں موجود کم از کم 30 فیصد ٹیکس دہندگان نئے پاس ورڈ کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کو نئے پاس ورڈز کے ایس ایم ایس موصول نہ ہونے کی وجہ سے ان کی آئی آر آئی ایس پورٹل تک رسائی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ آخری دنوں میں پورٹل پر غیر معمولی دباؤ اور سسٹم اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے یہ بار بار کریش ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، ایف بی آر نے ٹیکس چوری روکنے کیلئے ایک نیا پلان تیار کر لیا ہے جس کے تحت ٹیکس چوری پکڑنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی خود کار آڈٹ نظام غلط فراہم کردہ معلومات کی نشاندہی کرے گا۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرنے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مالی لین دین کا ریکارڈ احتیاط سے مرتب کریں اور تمام معلومات درست و دستاویزی ثبوت کے ساتھ درج کریں۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر ہے۔