سعودی کابینہ کا مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ پر اہم فیصلہ
اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کو 28 فروری سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
سعودی کابینہ کا مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ پر اہم فیصلہ
ریاض: سعودی کابینہ نے مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون پر بھی غور کیا ہے۔
سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ریاض میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران مکہ دفاعی مشترکہ معاہدے کے لیے سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جبکہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔
سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت کی آزادی اور تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کو 28 فروری سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
سعودی کابینہ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان کا خیرمقدم بھی کیا۔
اجلاس میں علاقائی سلامتی، سمندری راستوں کے تحفظ اور سعودی عرب، پاکستان و ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔