ٹیکس پالیسیوں اور ایف بی آر چھاپوں کے خلاف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان
سخت اقدامات کا فیصلہ، طبی مراکز بند رکھنے کی ہدایت، ایف بی آر کے نئے قواعد نافذ ہوں گے۔
ایف بی آر پالیسیوں اور ہڑتال کے تناظر میں ایک علامتی منظر
اسلام آباد اور ملک بھر میں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی ٹیکس پالیسیوں اور مبینہ ہراسانی کے خلاف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ایم اے نے ملک بھر میں تمام طبی مراکز بند رکھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں پر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم مسلط کرنا ہرگز قابل قبول نہیں۔
جنرل سیکریٹری پی ایم اے ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق ہیلتھ کیئر سروسز کو ریٹیل سیلز قرار دینا ناقابل قبول ہے، جبکہ ایف بی آر کے چھاپوں، جرمانوں اور مبینہ ہراسانی کے خلاف طبی برادری سراپا احتجاج ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں طبی خدمات غیر معینہ مدت کے لیے بند کی جا سکتی ہیں۔ پی ایم اے نے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر پی او ایس کی شرط واپس لے، غیر ضروری جرمانے ختم کرے اور اسپتالوں پر چھاپے بند کیے جائیں۔ پی ایم اے کے مطابق صوبائی اور مقامی قیادت کی پریس کانفرنسوں کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں اہم ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے رجسٹرڈ کاروباری مراکز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ نئے قواعد کے مطابق متعلقہ کاروباری مراکز کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل آئی سسٹم نصب کرنا اور اسے ایف بی آر کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کرنا لازم ہوگا۔ ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق ضرورت پڑنے پر کاروباری مقام سیل کرنے کے لیے پولیس کی مدد بھی حاصل کی جا سکے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو یا اس سے اوپر کا افسر تحریری رپورٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو دے گا، جس کی بنیاد پر کارروائی شروع کی جائے گی۔ کمشنر انکوائری کے بعد رپورٹ چیف کمشنر کو بھجوائے گا، جو کاروباری مقام سیل کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے تحریری حکم جاری کرے گا۔ کاروباری مقام مکمل طور پر یا اس کے کسی مخصوص حصے کو سیل کیا جا سکے گا، تاہم کارروائی سے قبل متعلقہ شخص کو حکم کی کاپی فراہم کرنا لازم ہوگا۔
دستاویز کے مطابق کاروباری مقام اس وقت تک سیل رہے گا جب تک مانیٹرنگ سسٹم ایف بی آر کے نظام سے منسلک نہیں ہو جاتا۔ سیل شدہ کاروبار کھلوانے کے لیے جرمانہ ادا کرنے کے ساتھ مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سسٹم کی تنصیب کے وقت ایف بی آر کی ٹیکنیکل ٹیم موجود ہوگی، جبکہ سسٹم نصب اور منسلک ہونے کے بعد کمشنر 3 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک مانیٹرنگ سے متعلق یہ قواعد مستقبل میں مزید کاروباری مراکز اور مینوفیکچررز پر بھی لاگو کیے جا سکتے ہیں۔