فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا، 400 سے زائد گرفتار

سکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد، بنیادی سہولیات کے فقدان اور بعض تعلیمی اداروں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔

October 1, 2026 · بام دنیا
فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا، 400 سے زائد گرفتار

فرانس میں طلبہ کا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا، 400 سے زائد گرفتار

فرانس میں طلبہ کا احتجاج پیرس سے نکل کر ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا، مظاہروں کے دوران پولیس اور احتجاجی طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ حکام نے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق طلبہ نے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد، بنیادی سہولیات کے فقدان اور بعض تعلیمی اداروں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔

مختلف مقامات پر احتجاج نے اس وقت پرتشدد شکل اختیار کرلی جب مظاہرین نے سڑکوں پر آگ لگائی، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں بڑی تعداد کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کی ہے، جنہیں ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ کئی اسکولوں میں کلاسز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ موجود ہیں جبکہ اساتذہ کی کمی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ مظاہرین نے طویل اوقات کار، کلاس رومز میں شدید گرمی اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایات بھی کی ہیں۔

مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور دیگر واقعات میں طلبہ اور اسکول عملے سمیت 119 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں متعدد اسکولوں کے پرنسپل اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔

فرانس کے وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے بتایا کہ احتجاج کے آغاز سے اب تک طلبہ اور اسکول عملے سمیت 119 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فرانسیسی حکومت 2027 کے بجٹ کی تیاری کر رہی ہے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے ذریعے مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔