پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کا اعلامیہ جاری،ذہنی صحت عالمی ذمہ داری قرار

پاکستان نے عملی اقدامات، پائیدار مالی معاونت اور عالمی شراکت داری کا عزم ظاہر کردیا

October 2, 2026 · ہیلتھ

پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 میں شرکاء کی گروپ فوٹو

اسلام آباد: وزارتِ صحت کے زیرِ اہتمام پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 جمعہ کو اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئی۔ سمٹ کے اختتام پر ’’اسلام آباد ڈیکلیئریشن‘‘ کے عنوان سے اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں ذہنی صحت کو کسی ایک ملک یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کا مشترکہ مسئلہ اور ذمہ داری قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں پاکستان نے عملی اقدامات اور شراکت داری کے ذریعے قیادت کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کہا گیا کہ پاکستان اپنے قومی ذہنی صحت پالیسی فریم ورک کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے اور گلوبل الائنس فار مینٹل ہیلتھ کے ذریعے عالمی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

اعلامیے کے مطابق شعبے میں تقسیم سے ہم آہنگی، قلیل مدتی منصوبوں سے پائیدار مالی معاونت اور پالیسی وعدوں سے جوابدہ عملی اقدامات کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔ اعلامیے میں اسلام آباد کو عالمی مکالمے، سیکھنے اور عملی اقدامات کا مرکز بنانے کی خواہش بھی ظاہر کی گئی۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ یہ سمٹ اختتام نہیں بلکہ ملک میں ذہنی صحت کے عملی قومی سفر کا آغاز ہے، اب پالیسی اور وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کا وقت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دو روزہ سمٹ کے دوران ماہرین، شراکت داروں اور نوجوانوں کی آراء سنی گئیں، جس سے ملک میں ذہنی صحت کے شعبے کا مستقبل کا راستہ متعین کرنے میں مدد ملی۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت ہے، جبکہ علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے تقریباً 10 سالانہ خودکشی کرتے ہیں، تاہم اصل صورتحال اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے افراد کی قیمتی زندگیاں ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ قومی ذہنی صحت پالیسی 2026–35 ملک کے لیے عملی قومی فریم ورک ہے، جبکہ صوبوں اور وفاقی اکائیوں سے 45 روز میں اس کی تحریری توثیق کا کہا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ذہنی صحت کے لیے نیشنل ہب آف ایکسیلنس قائم کیا جائے گا، جو شواہد کو پالیسی اور تربیت میں بدلنے کا قومی تکنیکی مرکز ہوگا۔ اسکولوں میں ماہرینِ نفسیات سمیت ذہنی صحت کی افرادی قوت بھی بڑھائی جائے گی۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ذہنی بیماریاں قابلِ علاج ہیں اور صحت یابی ممکن ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل انسولین اور ہائپر ٹینشن جیسے عام طبی مسائل ہیں، اس لیے مدد لینے میں جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔ ڈپریشن، بے چینی، غصہ اور مڈ لائف کرائسز سمیت ان مسائل کا علاج اور حل ممکن ہے۔