پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو لاکھوں افراد اسلام آباد کا رخ کریں گے، حافظ نعیم الرحمن
اہم پیش رفت، جماعت اسلامی نے اے پی سی کی دعوت قبول کرلی، گورنر راج کی مخالفت کردی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن پٹرولیم لیوی اور سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم نہ کی تو لاکھوں افراد اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ بونیر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا ریلیف پیکیج ناکافی ہے اور حکومت عوام سے پٹرول پر لیوی کے نام پر اضافی رقم وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت بتائے کہ ہر لٹر پٹرول پر 80 روپے لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی کس مد میں وصول کی جا رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود ریفائنریز کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں سالانہ 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اور ٹیکس وصولی کے نظام کی ناکامی کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے وفد نے امیر جماعت اسلامی سے ملاقات کی، جس میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما شریک تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی واضح مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کو معطل یا پامال کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام زیر حراست سیاسی رہنماؤں اور خواتین کی صحت کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سہولیات فراہم کی جائیں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔