آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے یورو زون اور یو اے ای میں مہنگائی کا طوفان
عالمی منڈی میں بحران، مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور توانائی کی ترسیل میں تعطل کے باعث یورو زون میں مہنگائی کی شرح ستمبر میں بڑھ کر 3.8 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو گزشتہ 3 سال کے دوران بلند ترین سطح ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے ادارے کے مطابق اگست میں یورو زون میں مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جو ایک ماہ کے دوران نمایاں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کی یہ شرح ماہرین اقتصادیات کی 3.7 فیصد کی پیش گوئی سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 18.8 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اگست میں یہ اضافہ 14.3 فیصد تک محدود تھا۔ ایندھن کی گرانی کے اثرات دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں اضافے کی شرح بھی 1.1 فیصد سے بڑھ کر 1.4 فیصد ہو گئی ہے۔ دوسری جانب بنیادی مہنگائی، جس میں توانائی اور خوراک جیسی اتار چڑھاؤ والی اشیا شامل نہیں ہوتی ہیں، ستمبر کے دوران 2.5 فیصد رہی جو اگست کی 2.4 فیصد شرح سے معمولی زیادہ ہے۔ یورو زون میں مہنگائی کی یہ شرح آخری مرتبہ ستمبر 2023 میں 4.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مہنگائی میں اس حالیہ اضافے نے یورپی مرکزی بینک کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ مرکزی بینک کا بنیادی ہدف مہنگائی کو 2 فیصد کے قریب رکھنا ہے، جس کے پیش نظر شرح سود میں مزید اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، متحدہ عرب امارات میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں اکتوبر کے لیے نئی قیمتوں کا نفاذ یکم اکتوبر سے کر دیا گیا ہے۔ یو اے ای میں پٹرول کی قیمتیں 4 درہم فی لیٹر سے تجاوز کر کے چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ نئی قیمتوں کے تحت سپر 98 پیٹرول کی قیمت 4.40 درہم اور اسپیشل 95 پٹرول کی قیمت 4.28 درہم فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ای پلس 91 پٹرول 4.21 درہم فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 4.80 درہم فی لیٹر ہو گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے، جس سے عام شہریوں کے گھریلو بجٹ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔