خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مکمل تیاریاں جاری ہیں، فیصل کریم کنڈی
اہم سیاسی کشیدگی، آئین میں واضح گنجائش موجود ہے، گورنر کے پی، حکومتی اقدامات پر سیاسی ردعمل کا خدشہ۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور آئین میں اس کی واضح گنجائش موجود ہے۔
سابق صوبائی وزیر سید اختر حسین شاہ کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کو چیلنج کیا کہ وہ لانگ مارچ کرکے صوابی کراس کرکے دکھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور وزیر اعلیٰ کے بیانات کی وجہ سے صوبے میں شدید انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پہلے فارم 47 کے تحت منتخب ہونے والوں سے بات نہ کرنے کے دعوے کرتے تھے، آج وہی سب سے پہلے مذاکرات کی میز پر پہنچ چکے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ افغانستان کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی واضح موقف پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں سوات میں کامیاب آپریشن کر کے امن بحال کیا تھا، جبکہ عوام نے گزشتہ 13 سال میں تحریک انصاف کی طرزِ حکمرانی کی حقیقت کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبے کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ وہ ہزارہ صوبے کے حق میں ہیں اور پورے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کر کے ریفرنڈم کی باتیں کرنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیات کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں وفاقی وزرا صوبائی حکومت کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران، دہشت گردی اور انتظامی چیلنجز کے پس منظر میں گورنر راج یا اسمبلی کی تحلیل کا فیصلہ مسائل کا حل ثابت نہیں ہوگا، بلکہ اس سے سیاسی تصادم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔