کے پی حکومت آخری مرحلے میں مذاکراتی وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، محسن نقوی

مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر رضامند ہوئی تھی

October 4, 2026 · اہم خبریں, قومی
کے پی حکومت آخری مرحلے میں مذاکراتی وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، محسن نقوی

کے پی حکومت آخری مرحلے میں مذاکراتی وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت گزشتہ رات حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپنے طے شدہ وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر رضامند ہوئی تھی، تاہم آخری مرحلے میں مؤقف تبدیل کردیا گیا۔

وزیر داخلہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گرد گروہوں کو صوبے میں آزادانہ سرگرمیوں اور محفوظ ٹھکانے بنانے سے روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی واضح مذمت بھی معاہدے کا حصہ تھی۔

محسن نقوی نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت صوبائی حکومت کو 72 گھنٹوں کے اندر عمل درآمد کا لائحہ عمل دینا تھا، جس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پولیس ایکٹ 2026 کا جائزہ بھی شامل تھا تاکہ سکیورٹی سے متعلق معاملات کو سیاسی مداخلت سے الگ رکھا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں انسداد دہشت گردی کے لیے پولیس کو مناسب وسائل اور فنڈز فراہم کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی، جس میں افغان مہاجرین کی واپسی اور صوبے میں افغان کیمپوں کے خاتمے کی بات شامل تھی۔ ان کے مطابق عبوری افغان حکومت سے کسی بھی قسم کے رابطے نہ رکھنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدے میں صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے، مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشت گردی سے متعلق فیصلے کرنے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کی پابند تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں جنگ جیسی سکیورٹی صورتحال کے دوران سکیورٹی معاملات کو سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔