حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک، تحریک انصاف کا آج لانگ مارچ کا اعلان

معاہدے کے مسودے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ دونوں جانب سے مذاکرات میں ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی گئی

October 4, 2026 · اہم خبریں, قومی
حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک، تحریک انصاف کا آج لانگ مارچ کا اعلان

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈلاک، تحریک انصاف کا آج لانگ مارچ کا اعلان

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتے کی دوپہر سے جاری مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد تحریک انصاف نے آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران فریقین کے درمیان معاہدے کے مسودے پر اتفاق نہ ہوسکا۔ دونوں جانب سے مذاکرات میں ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی گئی، جس کے بعد مذاکراتی کمیٹیوں کے ارکان اسپیکر چیمبر سے روانہ ہوگئے۔

مذاکرات کے اختتام پر حکومتی وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کا مؤقف بیان کیا۔ وزیراعظم کے مشیر اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے تحفظات سنے اور مذاکرات کے دوران مسودے میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ سمیت بعض دیگر نکات پر فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں:۔ کے پی حکومت آخری مرحلے میں مذاکراتی وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، محسن نقوی

حکومتی ٹیم کے رکن طلال چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق معاملات پر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سمیت دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں میں تعاون کرنا چاہیے۔

دوسری جانب اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر معاملات کو حتمی شکل نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق کئی معاملات پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:۔ حکومت نے جان بوجھ کر مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کیا، شوکت یوسفزئی

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتی تھی، تاہم لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے خیبر پختونخوا کے عوام میں کشیدگی پیدا ہو۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کرنا تحریک انصاف کا آئینی حق ہے اور اسے روکنے کے بجائے سیاسی طریقے سے معاملات حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں کسی بھی معاملے کو حتمی نہیں کہا جاسکتا اور لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:۔ سہیل آفریدی کا حکومت سے مذاکرات کیلئے 7 نکاتی ڈرافٹ سامنے آگیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے بھی آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے مطالبات آئینی اور قانونی دائرے میں ہیں اور عوام کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جبکہ مذاکراتی مسودے کے حوالے سے اعلیٰ سیاسی قیادت اور قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم میں محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چودھری اور طارق فضل چودھری شامل تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم میں بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور عامر ڈوگر شامل تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکرات میں شریک حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیے کا بھی اہتمام کیا۔