دبئی سے تل ابیب پرواز ہائی جیکنگ کوشش، معاون پائلٹ کے ہوشربا انکشافات

سنسنی خیز تحقیقات، ملزم طیارہ ائیرپورٹ کی عمارت سے ٹکرانا چاہتا تھا، تبوک میں لینڈنگ

October 9, 2026 · اہم خبریں
فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش ناکام بننے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش ناکام بننے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران پیش آنے والے ہائی جیکنگ کے واقعے کی تحقیقات میں کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اماراتی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیر حراست معاون پائلٹ ہمام الحمامی تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ پر خودکش حملہ کرنا چاہتا تھا اور اس کا مذموم منصوبہ طیارے پر قبضہ کرکے اسے ائیرپورٹ کی مسافر عمارت سے ٹکرانا تھا۔

تحقیقاتی دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 ستمبر کو پیش آنے والے اس واقعے میں عمانی نژاد معاون پائلٹ نے دورانِ پرواز کاک پٹ میں کپتان پر کلہاڑی سے حملہ کیا تھا۔ ابتدائی جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ہنگامی سگنل کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان کشیدگی کے دوران فعال ہوا۔ ملزم نے وکیل کی موجودگی میں اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ وہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے شدید متاثر تھا اور اس نے اکیلے ہی اس دہشتگردی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم کو اس کے فضائی کیریئر کے دوران ماضی میں 2 مختلف ممالک میں پروازوں سے روکا جا چکا تھا۔ سال 2025 میں عمان ائیر نے انتہا پسندانہ آن لائن مواد سے وابستگی کے خدشات کے پیش نظر اسے پرواز سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد وہ مراکش منتقل ہوا جہاں رائل ایئر ماروک نے نظریاتی تربیت کے بعد اس کی ملازمت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ حیرت انگیز طور پر فروری 2026 میں اسے فلائی دبئی میں بطور معاون پائلٹ ملازمت مل گئی، جسے سکیورٹی اداروں کی سنگین غفلت قرار دیا جا رہا ہے۔

واقعے کے روز طیارے میں تقریباً 174 افراد سوار تھے۔ پائلٹ پر شدید حملے کے باوجود کپتان، عملے کے ارکان اور مسافروں نے فوری جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کر لیا، جبکہ طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ائیرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزم سے اماراتی اور دیگر متعلقہ اداروں کی تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے ممکنہ رابطوں اور نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے جبکہ اس کے کسی سہولت کار کا تاحال حتمی سراغ نہیں مل سکا ہے۔