گوئٹے مالا میں لڑکی تابوت سے زندہ نکل آئی

پندرہ سالہ یولیدی کو مردہ سمجھ کر تدفین کی تیاریاں جاری تھیں

October 12, 2026 · چشم حیرت

 

گوئٹے مالا میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ 15 سالہ یولیدی اِسکوتویاک کو خاندان نے مردہ سمجھ کر تدفین کی تیاریاں کر لی تھیں، مگر وہ تابوت میں زندہ ہوگئی۔

واقعہ 10 اکتوبر 2026 کو پیش آیا۔ صبح سویرے یولیدی کو شدید سینے کا درد ہوا۔ اس کے والد ابراہم اِسکوتویاک سے فوری طور پر اسپتال لے جانے کے لیے گاڑی میں بٹھایا۔ راستے میں، سان پیڈرو کے قریب پہنچتے پہنچتے والد نے دیکھا کہ بیٹی سانس نہیں لے رہی اور نبض بھی نہیں چل رہی۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ بیٹی انتقال کر چکی ہے، اس لیے اسپتال سے تابوت منگوایا اور گھر واپس لے آئے۔

تقریباً آٹھ گھنٹے بعد جب خاندان، رشتہ دار اور پڑوسی آخری رسومات ادا کر رہے تھے، ماں لیسویا ریوس تابوت پر رو رہی تھیں کہ انہیں اندر حرکت محسوس ہوئی۔ تابوت کی کھڑکی کھول کریکھا گیا کہ یولیدی حرکت کر رہی ہے، آنکھیں کھول رہی ہے اور پھر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ حاضرین نے اسے پانی پلایا اور تابوت سے باہر نکالا۔

یولیدی نے بعد میں بتایا کہ اسے دل میں شدید درد اور بھاری پن محسوس ہوا تھا، پھر وہ بے ہوش ہو گئی۔

خاندان اسے معجزہ قرار دے رہا ہے۔اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری طبی رپورٹ سامنے نہیں آئی جو اس بات کی تصدیق کرے کہ واقعی طبی طور پر موت واقع ہوئی تھی۔

لڑکی گھر پر صحت یاب ہو رہی ہے۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور دنیا بھر میں زیر بحث کا موضوع بن گئی۔