دہلی مارچ میں پولیس کی تعداد مظاہر ین سے کم پڑگئی۔جنتر منتر احتجاجی مقام کے طورپر منسوخ

چیف الیکشن کمشنر وعدہ معاف گواہ بن جائیں، راہول گاندھی

October 12, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

بھارتی سپریم کورٹ کی طرف انڈیا  بلاک کے چلو دہلی مارچ میں، پولیس کی تعدادمظاہرین سے کم پڑ گئی۔حکومت نے جنتر منتر کو احتجاج گاہ کی فہرست سے خارج (ڈی نوٹیفائی) کر دیا ہے۔اس کی جگہ مشرقی دہلی میں تین دیگر مقامات رام لیلا گراؤنڈ، براری گراؤنڈ اور سی بی ڈی گراؤنڈ کو نامزد کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیاکے مطابق،راجدھانی 30 ہزارسے زائد پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار تعینات ہیں اور مظاہرین کی تعداد وردی پوش اہلکاروں سے کہیں زیادہ ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی طرف سے ملاقات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ انہوں نے اتوار کی رات ہی گاندھی کے خط کا جواب دے دیا تھا، جس میں انہوں نے ملاقات میں شرکت کرنے سے معذوری کی وجوہات بتائی تھیں، تاہم انہوں نے اپنے جواب کے مندرجات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اپوزیشن لیڈر اور مظاہرین، بشمول آئیسا کی نیہا بورا، بھاری سیکیورٹی کے درمیان مارچ میں پیدل شامل ہوئے۔راہول گاندھی، سی پی آئی (ایم) کے رہنما ایم اے بیبی، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ، نیہا بورا، یوگیندر یادو، این سی پی (ایس پی) کی رہنما سپریہ سولے اور انڈیا بلاک کے کئی دیگر ممتاز رہنماؤں نے ایک ساتھ سفر کیا۔

توقع ہے کہ اپوزیشن سپریم کورٹ پہنچنے پر وہاں ایک پٹیشن (درخواست) دائر کرے گی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے کہا کہ اگر پٹیشن دائر کی گئی تو عدالت منگل کو اس پر سماعت کے لیے تیار ہے۔

نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کرانا چاہتے ہیں۔ اس لیے پوری اپوزیشن اجتماعی طور پرجا رہی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہاں سے بات کہاں تک پہنچتی ہے۔

اس احتجاج میں وکلاء بھی شامل ہیں، جو گیانیش کمار اور مرکزی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہونے کے بعد سے دہلی میںسب سے بڑا احتجاج ہے۔

راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری گواہ بن جائیں اور استعفیٰ دے دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ وہ اس معاملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ نہیں ۔ گاندھی نے کہا کہ کمار کا استعفیٰ قوم کی خدمت ہوگا۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ جہاں بھی دھرنا ہو، وہی جنتر منتر ہے۔ادھر،کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ اگر دلی پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر احتجاج کی اجازت نہ دی تو جماعت ایک نئے احتجاجی پروگرام کا اعلان کرے گی۔

 اتوار کو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے دو دیگر ساتھی پولیس حراست سے رہا ہوئے تھے۔رہائی کے بعد سی جے پی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ تمام ’کاکروچ‘ فی الحال پیچھے ہٹ جائیں، جبکہ اگلے لائحہ عمل کا جلد اعلان کیا جائے گا۔