جاپان میں 11ویں منزل سے کودنے والا بچ گیا، راہگیر لڑکی ہلاک
خودکشی کی کوشش میں 29 سالہ شخص نے اپارٹمنٹ بلڈنگ سے چھلانگ لگائی تھی، لڑکی کا باپ قتل کا مقدمہ درج کرانے کیلئے سرگرم
جاپان میں 11ویں منزل سے کودنے والا بچ گیا، راہگیر لڑکی ہلاک
جاپان کے شہر ناگویا میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں 11ویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کرنے والا 29 سالہ شخص تو معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا لیکن نیچے سے گزرنے والی 23 سالہ بے گناہ لڑکی اس کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئی۔ یہ دلخراش واقعہ جولائی کے مہینے میں ناگویا کے گنجان آباد علاقے ناکا وارڈ (ساکائے) میں رات کے وقت پیش آیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 29 سالہ ملزم نے اپارٹمنٹ کی 11ویں منزل سے نیچے چھلانگ لگائی تھی۔ اسی دوران 23 سالہ توموکی انابا اپنی دوست کے ساتھ سڑک سے گزر رہی تھی کہ خودکشی کی کوشش کرنے والا شخص سیدھا اس کے اوپر آ گرا۔ شدید زخمی حالت میں لڑکی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی، جبکہ خودکشی کی کوشش کرنے والا شخص شدید زخمی ہونے کے بعد طبی امداد کے نتیجے میں صحت یاب ہو گیا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر ملزم کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد “شدید غفلت اور لاپروائی کے باعث ہلاکت” کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ تاہم، مقتولہ کے والد کینجی نے پولیس کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ملزم نے ایسی مصروف سڑک پر چھلانگ لگائی جہاں ہر وقت لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے، اور ملزم اس بات سے مکمل طور پر باخبر تھا کہ نیچے موجود افراد کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
مقتولہ کے والد کے مطابق ملزم سے ملاقات کے دوران اس نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے نیچے لوگوں کی موجودگی کے امکانات کو جانتے بوجھتے نظر انداز کیا اور چھلانگ لگا دی۔ والد کینجی نے استغاثہ اور عدالتی حکام سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کے خلاف جرم کی نوعیت کو تبدیل کیا جائے اور اسے قتل کی سنگین دفعات کے تحت چارج کیا جائے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ جو لڑکی جینا چاہتی تھی وہ ہمیشہ کے لیے دنیا سے چلی گئی اور جو شخص خود مرنا چاہتا تھا وہ آج زندہ بیٹھا ہے، اس سے زیادہ تکلیف دہ بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ میں اس واقعے کو محض ایک حادثہ کہہ کر بند نہیں ہونے دوں گا۔
اس المناک کیس پر عوامی سطح پر بھی شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ اب تک ملک بھر سے 45 ہزار سے زائد شہریوں نے مقتولہ کے والد کی جانب سے شروع کی جانے والی آن لائن پٹیشن اور درخواست پر دستخط کر دیے ہیں، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مقتولہ اور اس کے لواحقین کو حقیقی انصاف فراہم کیا جا سکے۔