اسرائیل کی فوج نے نیتن یاہو کی ایران پر ایکشن کی ہدایت مسترد کر دی
متعلقہ ہدایات پر عمل درآمد سے پہلے معاملے پر تفصیلی بحث اور وزیر اعظم سے قانونی تقاضوں کے تحت دستخط شدہ دستاویزات طلب کیں۔
اسرائیل کی فوج نے نیتن یاہو کی ایران پر ایکشن کی ہدایت مسترد کر دی
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کی جانب سے ایک نامعلوم فوجی کارروائی کے حکم پر ایال زمیر نے مزید غور و خوض کا مطالبہ کیا اور مبینہ طور پر کارروائی کے قانونی جواز سے متعلق دستخط شدہ دستاویزات طلب کیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات میں شدت آئی۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ مجوزہ کارروائی ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھا سکتی ہے اور حساس وقت میں غلط اندازے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض ذرائع نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ایران سے متعلق معاملہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم نیتن یاہو نے چینل 14 کو انٹرویو دیتے ہوئے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کے اور فوجی سربراہ کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے حال ہی میں اسرائیلی فوج اور خفیہ ایجنسی موساد کو ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اس بیان اور رپورٹ میں زیرِ بحث مخصوص فوجی کارروائی کے درمیان تعلق واضح نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی چینل 13 نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ایال زمیر نے ایک نجی ملاقات میں کہا کہ انہیں انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کی کوئی عملی ضرورت نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق، اگر مستقبل میں حملہ ضروری محسوس ہوا تو اسرائیل کارروائی کرسکتا ہے۔
ان اطلاعات کے بعد اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ گادی آئزن کوٹ نے کہا کہ ملکی سلامتی اور فوجیوں کی زندگیاں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہییں۔ یائر لیپڈ نے الزام لگایا کہ وزیراعظم انتخابات ملتوی کرانے کے لیے ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ یائر گولان نے واضح سیکیورٹی جواز اور ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے بغیر فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔
ایویگڈور لیبرمین نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ نیتن یاہو انتخابی صورتحال کے باعث اسرائیل کو فوجی کارروائی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم نے انتخابات سے متعلق ایسے ارادوں کی تردید کی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور اس کے داخلی سیاسی اثرات سے متعلق بحث تیز ہوگئی ہے، تاہم فوجی کارروائی کے مبینہ حکم اور قانونی دستاویزات کے معاملے پر نیتن یاہو اور ایال زمیر کے درمیان اختلافات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔