مغربی کنارے میں بھی اسرائیل انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی اسرائیل پر قتلِ عام، تشدد اور جنسی جرائم کے الزامات، اسرائیل نے رپورٹ مسترد کردی

October 26, 2026 · بام دنیا

مغربی کنارے میں اسرائیل نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہے؛ اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن

اقوام متحدہ کے تحت قائم تحقیقاتی کمیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور قتلِ عام کا مرتکب ہوا ہے، جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی بھی جاری ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے مسلسل تشدد کے ذریعے شہریوں پر وسیع پیمانے پر منظم حملے کیے گئے۔

کمیشن کی نئی رپورٹ میں اسرائیلی حکام اور فورسز پر قتلِ عام، تشدد، ریپ، دیگر اقسام کے جنسی تشدد اور قومیت، نسل اور نسلی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے ذریعے ظلم و ستم جیسے انسانیت سوز جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں جنگی جرائم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل یہی کمیشن ستمبر 2025 کی اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کر چکا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیل نے نسل کشی کی۔

تاہم اسرائیل نے اس وقت بھی رپورٹ کو سختی سے مسترد کیا تھا اور اب نئی رپورٹ کو بھی اپنے خلاف سوچا سمجھا منفی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

جنیوا میں اسرائیلی مشن نے تازہ رپورٹ کو اسرائیل کو بدنام کرنے اور اس کے وجود کو مجرمانہ ثابت کرنے کی کوشش قرار دیا۔

اسرائیل نے عالمی برادری سے تحقیقاتی کمیشن کے نتائج مسترد کرنے اور کمیشن کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یہ تین رکنی تحقیقاتی کمیشن 2021 میں قائم کیا تھا۔ اس کی سابق سربراہ اور جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کی سابق جج ناوی پلّے کو رواں ماہ امن کا نوبیل انعام بھی ملا ہے۔