ایلون مسک نے اے آئی فلم ’اوڈیسی‘ کی پہلی قسط جاری کردی

یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ تخلیق سے متاثر سات منٹ سے زائد ویڈیو جاری،سوشل میڈیا صارفین سے رائے طلب

October 26, 2026 · بام دنیا

ایلون مسک نے اے آئی فلم ’اوڈیسی‘ کی پہلی قسط جاری کردی

ایلون مسک نے یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ تخلیق ’اوڈیسی‘ سے متاثر ہوکر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی جانے والی فلم کی پہلی قسط جاری کردی ہے۔ سات منٹ سے زائد دورانیے کی اس ویڈیو کے ذریعے مسک نے اپنے اے آئی فلم سازی کے منصوبے کی جھلک پیش کی اور سوشل میڈیا صارفین سے اس پر رائے بھی طلب کی۔

مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے میں ان کی کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے نظام ’گروک امیجن‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کام میں ونڈر اسٹوڈیوز اور ہدایت کار دیو واکر بھی شریک ہیں۔

ایلون مسک اس سے پہلے وعدہ کرچکے ہیں کہ وہ 2026 کے اختتام سے قبل اے آئی کی مدد سے ایک مکمل فلم تیار کریں گے۔ ان کے مطابق فلم کی کہانی تاریخی حقائق اور ہومر کی اصل تخلیق سے مطابقت رکھنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم، اس منصوبے کی باقی اقساط کب جاری ہوں گی، اس بارے میں تاحال کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

مسک اس سے قبل معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی فلم ’اوڈیسی‘ پر بھی تنقید کرچکے ہیں۔ ان کے اعتراضات میں اداکارہ لوپیتا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے اور ایلیٹ پیج کو سینون کے کردار میں کاسٹ کرنا شامل تھا۔

مسک کا مؤقف تھا کہ ہیلن آف ٹرائے کو روایتی طور پر غیر معمولی حسن کی حامل خاتون کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس کی خوبصورتی ٹروجن جنگ کے پس منظر میں اہم سمجھی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے لوپیتا نیونگو کی کاسٹنگ پر اعتراض کیا تھا۔

مسک کے اس مؤقف پر کاسٹنگ، تاریخی نمائندگی اور قدیم داستانوں کو جدید انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے بحث بھی ہوئی۔ ان کی اپنی اے آئی فلم کا منصوبہ اب اس بات کی طرف توجہ مبذول کرا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں فلم سازی اور تخلیقی صنعتوں کو کس طرح تبدیل کرسکتی ہے۔