ایران کو شامل کیے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن ممکن نہیں،عمان

خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔

October 27, 2026 · بام دنیا
ایران کو شامل کیے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن ممکن نہیں،عمان

ایران کو شامل کیے بغیر خلیج فارس میں پائیدار امن ممکن نہیں،عمان

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کے لیے ایران کو علاقائی مذاکرات اور سلامتی کے نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے معاملات کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔

برطانیہ کی جامعہ کیمبرج میں خطاب کرتے ہوئے عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ پچاس برس کے دوران علاقائی سلامتی کے انتظامات میں ایران کو شامل نہ کرنے کے منفی اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہے بلکہ پورا خطہ اس سے متاثر ہوا ہے۔

بدر البوسعیدی کے مطابق خلیجی ممالک کا طویل عرصے تک بیرونی طاقتوں پر انحصار، غیر ملکی فوجی تعیناتی، بحری بیڑوں، فضائی دفاعی نظام اور خفیہ معلومات کے تبادلے جیسے اقدامات کے باوجود سیاسی اور علاقائی مسائل کو کم کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بیرونی طاقتوں کے قومی مفادات ہمیشہ خطے کے ممالک اور ان کے عوام کی مشترکہ ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول بیرونی قوتوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے علاقائی ممالک کے درمیان بداعتمادی کو بھی تقویت دی ہے۔

عمانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تہران میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے اور علاقائی امور پر مشاورت جاری ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرونی مداخلت نے ان مسائل کے حل کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔

بدر البوسعیدی نے تجویز دی کہ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک، ایران اور عراق کو شامل کرکے ایک جامع علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے ان ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے اور باہمی عدم جارحیت کے معاہدے کی جانب پیش رفت پر بھی زور دیا۔