ترک وزیر خارجہ کا بیان اور اس پر بھارتی ردعمل
بھارت اس معاہدے کا مذاق اڑاتا ہے، تاہم وہ بھارت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اس کے تبصروں کو ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔ترک وزیر خارجہ
ترک وزیر خارجہ کا بیان اور اس پر بھارتی ردعمل
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بھارت پر طنزیہ تبصرہ کیا ہے، جس پر بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ کنول سبل نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اس معاہدے کا مذاق اڑاتا ہے، تاہم وہ بھارت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اس کے تبصروں کو ہنسی میں ٹال دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھارت کو احساس ہوگا کہ یہ معاہدہ کتنا بڑا فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سابق بھارتی سیکریٹری خارجہ کنول سبل نے کہا کہ ایک سنجیدہ معاملے پر اس انداز میں ہنسنا وزیر خارجہ کی سطحی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس معاملے میں بھارت کا ذکر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ نئی دہلی نے مکہ دفاعی معاہدے پر ترکیہ کو براہِ راست تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔
کنول سبل کے مطابق بھارت کی اصل تشویش پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اور ان کے بھارتی سلامتی پر ممکنہ اثرات سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والا وزیر خارجہ اس معاملے پر سفارتی نفاست کا مظاہرہ کرتا۔
واضح رہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست 2026 کو دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے میں اجتماعی دفاع، انٹیلی جنس کے تبادلے، مشترکہ فوجی تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس کے تحت ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک کے خلاف کارروائی تصور کرنے کی شق بھی شامل ہے، جبکہ سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔