اسرائیلی پارلیمنٹ میں نئی مثال قائم، سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب

سابق یہودی اکثریتی جماعت کو چھوڑ کر راعم میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس جماعت نے حالیہ انتخابات میں 8 پارلیمانی نشستیں حاصل کی ہیں۔

November 1, 2026 · بام دنیا
اسرائیلی پارلیمنٹ میں نئی مثال قائم، سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب

اسرائیلی پارلیمنٹ میں نئی مثال قائم، سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب

تل ابیب: اسرائیل کی سیاست میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق یہودی پولیس افسر یواو سیگالووٹز نے عرب قیادت والی اسلامی جماعت راعم میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور جلد اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

یواو سیگالووٹز نے اپنی سابق یہودی اکثریتی جماعت کو چھوڑ کر راعم میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس جماعت نے حالیہ انتخابات میں 8 پارلیمانی نشستیں حاصل کی ہیں۔

سابق پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس سیاسی اتحاد کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مذہب اور نسل کے اختلافات کے باوجود یہودی اور عرب شہری مشترکہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک ساتھ کام کرسکتے ہیں۔

ان کے مطابق راعم کے سربراہ منصور عباس عرب اور مذہبی پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ وہ خود یہودی اور سیکولر ہیں، لیکن دونوں اسرائیلی شہری ہیں اور ملک کی بہتری کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں۔

اسرائیل کی مجموعی آبادی میں فلسطینی عرب شہریوں کا تناسب تقریباً 20 فیصد ہے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ عرب شہریوں کو ووٹ دینے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کا حق حاصل ہے، تاہم ان کی آبادی والے کئی علاقوں کو غربت، جرائم اور سرکاری وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

دوسری جانب راعم کے سربراہ منصور عباس بھی نئی حکومت میں شمولیت کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت عرب اور یہودی شہریوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے۔