پہلی بار اے آئی سے تیار کردہ وائرس انسانی مریض میں داخل

اس اقدام کا مقصد ایسے بیکٹیریائی انفیکشنز کا علاج تلاش کرنا ہے جن پر عام اینٹی بائیوٹکس مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔

November 1, 2026 · بام دنیا
پہلی بار اے آئی سے تیار کردہ وائرس انسانی مریض میں داخل

پہلی بار اے آئی سے تیار کردہ وائرس انسانی مریض میں داخل

سان فرانسسکو: سائنس اور طب کی دنیا میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ وائرس ایک انسانی مریض کے تجرباتی علاج کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایسے بیکٹیریائی انفیکشنز کا علاج تلاش کرنا ہے جن پر عام اینٹی بائیوٹکس مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم اے آئی کمپنی ریڈیکل نیومیرکس کے مطابق یہ تجرباتی علاج ایک ایسے مریض کو دیا گیا جو شدید بیکٹیریائی انفیکشن میں مبتلا تھا۔ اس علاج میں کمپنی کے اے آئی ماڈل ’اومنی ون‘ کی مدد سے تیار کیے گئے مخصوص وائرس استعمال کیے گئے۔

یہ وائرس بیکٹیریوفیجز کہلاتے ہیں، جنہیں مختصراً ’فیز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی خلیوں کے بجائے مخصوص بیکٹیریا کو نشانہ بناتے اور انہیں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

طبی ماہرین پہلے ہی بعض ایسے مریضوں کے علاج کے لیے فیز تھراپی پر تحقیق اور تجربات کر رہے ہیں جن کے انفیکشن عام ادویات سے قابو میں نہیں آتے۔ تاہم روایتی طریقے میں ڈاکٹروں کو قدرتی طور پر پائے جانے والے ایسے وائرس تلاش کرنا پڑتے ہیں جو مریض کے انفیکشن کا سبب بننے والے بیکٹیریا پر اثر انداز ہوسکیں۔

کمپنی کے مطابق اومنی ون نے ایک موجودہ وائرس کے مخصوص حصے کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا تاکہ وہ متعلقہ بیکٹیریا کو زیادہ مؤثر انداز میں پہچان کر نشانہ بنا سکے۔ کمپنی کو امید ہے کہ اے آئی کی مدد سے مستقبل میں مریض کے انفیکشن کے مطابق ایسے وائرس تیار کرنے کا عمل چند دنوں تک محدود کیا جاسکے گا۔

ریڈیکل نیومیرکس کا کہنا ہے کہ مریض کو علاج دینے سے پہلے اے آئی سے تیار کردہ وائرسز کو اس کے بیکٹیریا کے نمونوں پر تجربہ گاہ میں آزمایا گیا، جہاں ان وائرسز کے مرکب نے اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کو مکمل طور پر ختم کردیا۔

یہ علاج خصوصی اجازت کے تحت فراہم کیا گیا، جس کے ذریعے ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں پر تجرباتی طریقہ علاج آزمانے کی اجازت ملتی ہے جن کے لیے روایتی علاج کے امکانات محدود ہوں۔

تاہم کمپنی نے ابھی تک مریض کی بیماری، علاج کے بعد اس کی صحت میں بہتری یا انفیکشن کے مکمل خاتمے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس پیش رفت کی آزاد سائنسی جانچ کے لیے تحقیقی مقالہ بھی شائع نہیں کیا گیا، اس لیے علاج کی کامیابی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے وائرس تیار کرنے کی صلاحیت نے حیاتیاتی تحفظ سے متعلق خدشات بھی پیدا کردیے ہیں۔ رواں سال اگست میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور آرک انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے بھی اے آئی کی مدد سے ایسے وائرس تیار کرنے کا اعلان کیا تھا جو تجربہ گاہ میں ای کولی بیکٹیریا کو ختم کرسکتے تھے۔

محققین نے تقریباً 300 جینیاتی خاکوں کی تیاری اور جانچ کے بعد 16 فعال وائرس تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ تجربات انسانی جسم پر نہیں بلکہ بیکٹیریا پر کیے گئے تھے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے حیاتیاتی عوامل تیار کرنے کی صلاحیت کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال روکا جاسکے۔