اسرائیل کا ایرانی قیادت پر”پیجر”طرز کے اچانک حملے پر غور

ایلام نے 4 ایرانی فوجی اور سیکیورٹی کمانڈروں کی نشاندہی کی، جو ان کے بقول نظام میں طاقت کے حقیقی مراکز ہیں، نیویارک پوسٹ

November 1, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک: موساد کے سابق نائب سربراہ برائے عالمی آپریشنز عوڈید ایلام نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ایرانی فوجی قیادت کا خاتمہ کرنے کے لیے 2024 میں لبنان اور شام میں حزب اللہ کے مواصلاتی آلات کو دھماکے سے اڑانے کی کارروائی کی طرز پر اچانک حملے کا سہارا لے سکتا ہے۔

ایلام نے اخبار ”نیویارک پوسٹ ”کو بتایا کہ حیران کن اور غیر متوقع اقدامات اسرائیلی حکمتِ عملی کا بنیادی جزو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب کے پاس انٹیلی جنس اور فوجی نوعیت کے ایسے پتے ہیں، جنہیں وہ آئندہ مرحلے میں استعمال کر سکتا ہے۔

ایلام نے 4 ایرانی فوجی اور سیکیورٹی کمانڈروں کی نشاندہی کی، جو ان کے بقول نظام میں طاقت کے حقیقی مراکز ہیں، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی، بسیج فورس کے کمانڈر حسین طائب، ایرانی چیف آف اسٹاف علی عبداللہی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی۔

ایلام کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، پارلیمان کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار نہیں۔ یہ اختیار فوجی قیادت کے ہاتھ میں مرکوز ہے۔

ایلام نے اشارہ کیا کہ ایرانی فوجی قیادت نے سیاسی قیادت کی واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے، کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش تہران کو اسٹریٹجک برتری دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی پابندیوں اور امریکی فوجی ناکہ بندی کے باعث نظام کے اندر اختلافات بڑھ رہے ہیں اور ایرانی قیادت کے مؤقف میں فرق پایا جاتا ہے۔